بینک ملازمین کی ملک گیر ہڑتال، ہفتہ اتوار کی تعطیلات کے باعث 5 دن بینک شاخیں بند رہنے کا امکان
رائے گڑھ، 21 ستمبر (ہ س)۔ ملک بھر کے بینک ملازمین 28 سے 30 ستمبر 2026 تک 3 روزہ ملک گیر ہڑتال پر جانے والے ہیں۔ یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز نے مختلف زیر التوا مطالبات کی تکمیل کے لیے اس ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ چونکہ 26 اور 27 ستمبر کو ہفتہ اور ات
Bank Employees Nationwide Strike


رائے گڑھ، 21 ستمبر (ہ س)۔ ملک بھر کے بینک ملازمین 28 سے 30 ستمبر 2026 تک 3 روزہ ملک گیر ہڑتال پر جانے والے ہیں۔ یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز نے مختلف زیر التوا مطالبات کی تکمیل کے لیے اس ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ چونکہ 26 اور 27 ستمبر کو ہفتہ اور اتوار کی ہفتہ وار تعطیلات بھی ہیں، اس لیے بینک شاخوں میں کام کاج مسلسل 5 دن متاثر رہنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے اپنے صارفین کے لیے اہم اطلاع جاری کرتے ہوئے انہیں ضروری بینکاری کام پہلے ہی مکمل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ایس بی آئی نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ شاخ میں جاکر کیے جانے والے اہم اور مقررہ مدت والے تمام لین دین 28 ستمبر سے پہلے مکمل کرلیں۔ ہڑتال کے دوران بینک شاخوں میں معمول کا کام کاج متاثر ہونے کا قوی امکان ہے۔ تاہم صارفین کو ممکنہ پریشانی سے بچانے کے لیے اے ٹی ایم، کیش ڈپازٹ مشینیں، انٹرنیٹ بینکنگ، موبائل بینکنگ، یونو ایپ اور یو پی آئی جیسی ڈیجیٹل بینکاری خدمات 24 گھنٹے دستیاب رہیں گی، بینک نے یہ بات واضح کی ہے۔بینک ملازمین کی اہم مانگوں میں ہفتے میں 5 دن کام کا نظام نافذ کرنا، پنشن کے ضوابط میں اصلاحات کرنا، تمام پنشن یافتگان کے لیے مہنگائی بھتے کے یکساں فارمولے کا نفاذ اور این پی ایس کے بجائے پرانی پنشن اسکیم اختیار کرنے کا موقع فراہم کرنا شامل ہے۔ ملک کے تقریباً 90 فیصد بینک ملازمین کی نمائندگی کرنے والی یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز اس سے قبل 11 ستمبر کو بھی احتجاج کرچکی ہے۔دریں اثنا، ہڑتال کے باعث عام شہریوں کو کم سے کم پریشانی ہو، اس مقصد سے مرکزی وزارت خزانہ نے سرکاری اور دیہی بینکوں کے سربراہان کا اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا ہے۔ اس اجلاس میں متبادل انتظامات اور ضروری اقدامات کا جائزہ لیا جارہا ہے تاکہ ہڑتال کے دوران بینکاری خدمات پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کو کم کیا جاسکے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande