کھیتوں میں پانی بھرنے کی وجہ سے مویشی پالنے والے پریشان ، دودھ کی پیداوار میں بھاری گراوٹ
بھاگلپور، 20 ستمبر (ہ س)۔ گنگا کے طغیانی پر آنے کے باعث دیہی اور دور دراز علاقوں میں آنے والے سیلاب کی سب سے خطرناک صورتحال کا سامنا ضلع کے مویشی پالنے والوں کو کرنا پرا ہے۔ دیارا اور ساحلی علاقوں میں سیکڑوں ایکڑ پر لگی ہری فصلیں اور چراگاہیں مکمل
کھیتوں میں پانی بھرنے کی وجہ سے مویشی پالنے والے پریشان ، دودھ کی پیداوار میں بھاری گراوٹ


بھاگلپور، 20 ستمبر (ہ س)۔ گنگا کے طغیانی پر آنے کے باعث دیہی اور دور دراز علاقوں میں آنے والے سیلاب کی سب سے خطرناک صورتحال کا سامنا ضلع کے مویشی پالنے والوں کو کرنا پرا ہے۔ دیارا اور ساحلی علاقوں میں سیکڑوں ایکڑ پر لگی ہری فصلیں اور چراگاہیں مکمل طور پر زیر آب آ چکی ہیں، جس کے باعث مویشیوں کے لیے ہرا اور خشک چارہ ملنا تقریباً مکمل طور پر بند ہو گیا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ کسان اپنے مویشیوں کو لے کر اونچی جگہوں اور پشتوں پر بھوکے پیٹ ترپال کے نیچے رہنے پر مجبور ہیں۔ محکمہ مویشی پروری کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، چارے کی اس شدید قلت اور بھوک کی وجہ سے دودھ کی پیداوار میں 30 سے 50 فیصد تک کی بھاری کمی آئی ہے۔

مقامی ومول ڈیری آپریٹروں اور سدھا کاؤنٹروں کے ڈسٹری بیوٹرز نے بتایا کہ دیہی علاقوں سے ہونے والا روزانہ دودھ کا کلیکشن نصف رہ گیا ہے۔ شہر میں اچانک پیدا ہونے والی دودھ کی اس شدید قلت کو متوازن کرنے اور عام صارفین کی طلب پوری کرنے کے لیے اب پلانٹس میں ہنگامی صورتحال کے لیے ذخیرہ کیے گئے ملک پاؤڈر کا بڑے پیمانے پر سہارا لیا جا رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande