شیکھاوت کا راہل گاندھی پر حملہ، کہا: صرف سر نیم اپنانے سے ذمہ داری اور پختگی حاصل نہیں ہوتی
جودھ پور، 20 ستمبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر ثقافت و سیاحت گجیندر سنگھ شیکھاوت نے راہل گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی کا سر نیم اپنا لینے سے اس نام سے وابستہ ورثہ، پختگی اور ذمہ دارانہ رویہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اتوار کو میڈیا سے بات چیت کرتے
شیکھاوت کا راہل گاندھی پر حملہ، کہا: صرف سر نیم اپنانے سے ذمہ داری اور پختگی حاصل نہیں ہوتی


جودھ پور، 20 ستمبر (ہ س)۔

مرکزی وزیر ثقافت و سیاحت گجیندر سنگھ شیکھاوت نے راہل گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی کا سر نیم اپنا لینے سے اس نام سے وابستہ ورثہ، پختگی اور ذمہ دارانہ رویہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

اتوار کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شیکھاوت نے کہا کہ راہل گاندھی نے اپنے ہی ملک کے وزیر اعظم کے بارے میں جس طرح عوامی پلیٹ فارم پر غیر ذمہ دارانہ حرکتیں کیں، وہ نامناسب بھی ہیں اور قابلِ مذمت بھی۔

انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کے سابقہ رویے کو دیکھتے ہوئے ان کا یہ طرزِ عمل کوئی نئی بات نہیں ہے۔

شیکھاوت نے کہا، ”آپ کسی سے خاندانی نام چرا سکتے ہیں، لیکن اس نام سے وابستہ ورثہ، پختگی اور ذمہ دارانہ رویہ صرف وہ نام اپنا لینے سے حاصل نہیں کر سکتے۔“

کانگریس کی جانب سے میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں ہائبرڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے راجندر سولنکی کو امیدوار بنائے جانے کے سوال پر شیکھاوت نے کہا کہ یہ ضابطوں اور قواعد کے دائرے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اقتدار میں رہتے ہوئے شاید اسی مقصد سے قواعد میں ترمیم کی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے ووٹر پہلے ہی اپنی رائے ظاہر کر چکے ہیں۔ میونسپل کارپوریشن بورڈ کے لیے منتخب ارکان نے بھی اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔

ایسے میں انتخابات کے حوالے سے عوام اور منتخب نمائندوں کے جذبات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ شیکھاوت نے حالیہ دنوں میں جھوٹ اور افواہیں پھیلانے کی کوششوں کے معاملے پر بھی کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ دو روز قبل بھی اسی طرح کی کوشش کی گئی تھی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ رات کے وقت راتاناڈا تھانے جا کر ایک ہائی وولٹیج سیاسی ڈراما کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن صبح ہوتے ہی وہ کوشش بے اثر ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی ماحول کو بلاوجہ گرم کرنے اور جھوٹ و افواہوں کے ذریعے الجھن پیدا کرنے کی کوششیں عوام کے سامنے زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande