ایران کی امریکہ سے بات چیت کے لیے سات شرائط، ٹرمپ منگل کو تبادلۂ خیال کریں گے
تہران/واشنگٹن، 20 ستمبر (ہ س)۔ ایران نے قطر کے توسط سے امریکہ کو بات چیت شروع کرنے کے لیے سات شرائط پیش کی ہیں۔ ایران نے متنبہ کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے اس کے مطالبات تسلیم نہیں کیے تو تہران فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی
ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سکریٹری محسن رضائی۔ فوٹو انٹرنیٹ میڈیا


تہران/واشنگٹن، 20 ستمبر (ہ س)۔ ایران نے قطر کے توسط سے امریکہ کو بات چیت شروع کرنے کے لیے سات شرائط پیش کی ہیں۔ ایران نے متنبہ کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے اس کے مطالبات تسلیم نہیں کیے تو تہران فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ قطر نے ایران کی شرائط واشنگٹن تک پہنچا دی ہیں۔ تہران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جواب کا منتظر ہے۔

الجزیرہ، شنہوا، گلف نیوز اور عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق، رضائی نے کہا، ’’ہم ثالث قطر کے رابطے میں ہیں۔ قطر نے جنگ کے خاتمے کے مقصد سے ہماری شرائط واشنگٹن تک پہنچائی ہیں۔ ہم صدر ٹرمپ کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘ رضائی کے مطابق شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، ایران کے منجمد فنڈز کا اجرا اور بحری ناکہ بندی ختم کرنا شامل ہے۔

رضائی نے ایکس پر لکھا کہ اگر واشنگٹن اپنی خود ساختہ مصیبت سے نکلنا چاہتا ہے، تو اس کے پاس ایران کے حقوق اور شرائط تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ رضائی نے امریکہ کے ایک اور حملے کے قوی امکان کا اظہار کیا اور کہا کہ گزشتہ مرحلے کی دو لڑائیوں کے بعد ایران کی عسکری حکمتِ عملی تبدیل ہوئی ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ اب خلیج سے لے کر خلیجِ عمان اور بحرِ عرب تک پھیلے ہوئے امریکی بحری وسائل پر مرکوز ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے حال ہی میں امریکی جہاز یا ایئر کرافٹ کیریئر کے قریب ملٹی وار ہیڈ اینٹی شپ میزائل کا تجربہ کیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگلا ردِ عمل زیادہ وسیع ہو سکتا ہے، جس میں خطے کے امریکی ٹھکانے، کاروباری مفادات اور مقامی کمپنیاں بھی نشانے پر آ سکتی ہیں۔

گزشتہ ماہ ایم او یو کی مدت ختم ہونے کے بعد سے قطر اور پاکستان بات چیت دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ تنازعہ فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد شروع ہوا تھا۔ رضائی نے کہا کہ تہران تنازعے کو جلد از جلد ختم کرنے کی حکمتِ عملی پر کام کر رہا ہے۔

اس دوران محسن رضائی نے ہفتہ کے روز ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کا ملک اپنے مرحوم سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی جانب سے جاری کردہ اس مذہبی فتوے پر اب بھی قائم ہے، جس میں جوہری ہتھیار تیار کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ محسن رضائی نے کہا، ’’ہمیں علم نہیں کہ مستقبل میں کیا ہوگا۔‘‘

ادھر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کے روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ اس کے بعد وہ نیویارک میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رہنماوں سے ملاقات کریں گے۔ امریکی حکام کے مطابق، ایران اس بات چیت کا بنیادی موضوع رہے گا۔ تاہم، یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ٹرمپ یا امریکہ کا کوئی دیگر نمائندہ ایرانی حکام سے ملاقات کرے گا یا نہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande