جے رام رمیش کا ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے معاملہ پر الیکشن کمیشن پر الزام
نئی دہلی، 20 ستمبر (ہ س)۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملہ پر الیکشن کمیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ ایس آئی آر کے تیسرے مرحلے میں اب تک تقریباً 32 فیصد ووٹر متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ
جے رام رمیش کا ووٹر لسٹ پر نظرثانی کو لے کر الیکشن کمیشن پر الزام


نئی دہلی، 20 ستمبر (ہ س)۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملہ پر الیکشن کمیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ ایس آئی آر کے تیسرے مرحلے میں اب تک تقریباً 32 فیصد ووٹر متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اس طرح تقریباً ہر تیسرے ووٹر کا نام یا تو ووٹر لسٹ سے حذف کیا گیا ہے یا اضافی دستاویزات طلب کیے جانے کے باعث اس کے نام پر غیر یقینی صورتحال بنی ہوئی ہے۔

رمیش نے اتوار کو جاری ایک سرکاری بیان میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے جون 2025 میں بہار سے ایس آئی آر کا پہلا مرحلہ شروع کیا تھا۔ اس کے بعد نومبر 2025 میں نو ریاستوں اور تین مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں دوسرا مرحلہ شروع کیا گیا۔ ان دونوں مرحلوں میں مجموعی طور پر 7.8 کروڑ ووٹروں کے نام حذف کیے گئے، جو ایس آئی آر سے پہلے کی ووٹر لسٹ کا تقریباً 13 فیصد تھا۔

انہوں نے کہا کہ سال 2026 کے وسط میں 16 ریاستوں اور تین مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر کا تیسرا مرحلہ شروع ہوا۔ جے رام رمیش نے 12 ریاستوں اور دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے دستیاب اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر 36.06 کروڑ ووٹروں میں سے 6.18 کروڑ یعنی 17 فیصد سے زیادہ کے نام حذف کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 5.43 کروڑ ووٹروں یعنی تقریباً 15 فیصد کو اضافی دستاویزات پیش کرنے کے نوٹس دیے گئے ہیں۔ انہوں نے دونوں اعداد و شمار کو جوڑتے ہوئے کہا کہ تقریباً 32 فیصد ووٹروں کے حقِ رائے دہی پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔

انہوں نے ریاست وار اعداد و شمار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دہلی میں 53.73 فیصد، چنڈی گڑھ میں 52.58 فیصد، تلنگانہ میں 48.90 فیصد، جھارکھنڈ میں 39.57 فیصد، ہریانہ میں 37.5 فیصد، اتراکھنڈ میں 35.71 فیصد، میگھالیہ میں 35.36 فیصد، مہاراشٹر میں 33.88 فیصد، کرناٹک میں 27.6 فیصد، اوڈیشہ میں 23.67 فیصد، آندھرا پردیش میں 21.17 فیصد اور پنجاب میں 15.23 فیصد ووٹر متاثر ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش نے کہا کہ کرناٹک، تلنگانہ اور جھارکھنڈ نے ان ووٹروں کی فہرست عوام کے سامنے جاری کی ہے، جن کے نام حذف کیے جانے کا خطرہ ہے، تاکہ متعلقہ افراد اپنے نام اور صورتحال کی جانچ کر سکیں۔ ان کے مطابق دہلی نے بھی عوامی دباؤ کے بعد 19 ستمبر کو ایسی فہرست جاری کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی حکومت والی دیگر ریاستوں اور پنجاب نے اب تک ایسی فہرست جاری نہیں کی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایس آئی آر کے عمل میں اقتصادی اور سماجی طور پر کمزور اور محروم طبقات کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ زیادہ تر بڑی ریاستوں میں مردوں کے مقابلے خواتین کے زیادہ نام حذف کیے گئے ہیں۔

جے رام رمیش نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داری شہریوں پر ڈال رہی ہے اور ان سے ایسے دستاویزات طلب کیے جا رہے ہیں، جو بہت سے لوگوں کے پاس کبھی رہے ہی نہیں۔ انہوں نے ایس آئی آر کو آئین پر حملہ قرار دیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande