
میلان، 20 ستمبر (ہ س)۔
اٹلی کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت اسکولوں میں چہرہ ڈھانپنے والے ملبوسات پر پابندی عائد کرنے اور ہر جماعت میں غیر ملکی طلبہ کی زیادہ سے زیادہ تعداد مقرر کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ میلونی نے یہ اعلان اپنی جماعت ’برادرز آف اٹلی‘ کی نوجوان تنظیم کے سالانہ پروگرام میں کیا۔
میلونی کے مطابق اس سلسلے میں جلد ہی کابینہ کے سامنے ایک تجویز پیش کی جائے گی۔ تجویز میں ہر جماعت میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد محدود کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے غیر ملکی طلبہ کے والدین کے لیے اطالوی زبان سیکھنے کا انتظام کرنے کی شق بھی شامل ہوگی، جن کے بچوں کو اسکول کے نظام میں گھلنے ملنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔
انہوں نے اسکولوں میں برقعے اور نقاب پر پابندی عائد کرنے کی بات بھی کہی۔
میلونی نے دلیل پیش کی کہ اگر کسی جماعت میں صرف ایک بچہ ایسا ہو جو اطالوی زبان نہیں سمجھتا تو استاد اور دیگر طلبہ اس کی زبان سیکھنے اور اسے اسکول کے ماحول میں گھلنے ملنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ تاہم، ان کے مطابق اگر ایسے بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہو جائے تو اس سے انضمام کے بجائے نظرانداز کیے جانے کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
وزیرِ اعظم نے ابھی یہ واضح نہیں کیا ہے کہ ایک جماعت میں غیر ملکی طلبہ کی زیادہ سے زیادہ تعداد کتنی مقرر کی جائے گی۔
تحقیقی ادارے فونڈازیونے آئی ایس ایم یو کے مطابق اٹلی کے اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلبہ میں غیر اطالوی شہریوں کا تناسب 11.6 فیصد ہے۔
درحقیقت، اٹلی یورپ کے ان اہم ممالک میں شامل ہے جہاں تارکینِ وطن کی آمد کا نمایاں اثر پڑا ہے۔ اسی وجہ سے امیگریشن اور تارکینِ وطن کا سماجی انضمام ایک طویل عرصے سے اٹلی کی سیاست کے اہم موضوعات رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ