انوپروجیکٹس کے شیئرز میں زبردست گراوٹ، اپر سرکٹ کے باوجود آئی پی او سرمایہ کاروں کو نقصان
نئی دہلی، 2 ستمبر (ہ س)۔ ٹیلی کام، سیوریج اور گیس پائپ لائن سمیت اوورہیڈ اور زیرِ زمین یوٹیلیٹی انفراسٹرکچر سے متعلق خدمات فراہم کرنے والی کمپنی اَنّو پروجیکٹس کے شیئرز نے بدھ کو شیئر مارکیٹ میں مایوس کن آغاز کیا۔ کمپنی کے شیئرز آئی پی او کی جاری
انوپروجیکٹس کے شیئرز میں زبردست گراوٹ، اپر سرکٹ کے باوجود آئی پی او سرمایہ کاروں کو نقصان


نئی دہلی، 2 ستمبر (ہ س)۔

ٹیلی کام، سیوریج اور گیس پائپ لائن سمیت اوورہیڈ اور زیرِ زمین یوٹیلیٹی انفراسٹرکچر سے متعلق خدمات فراہم کرنے والی کمپنی اَنّو پروجیکٹس کے شیئرز نے بدھ کو شیئر مارکیٹ میں مایوس کن آغاز کیا۔ کمپنی کے شیئرز آئی پی او کی جاری قیمت کے مقابلے میں بھاری ڈسکاؤنٹ پر لسٹ ہوئے۔ اگرچہ بعد میں خریداری کے زور پرشیئرز نے اپر سرکٹ کو چھو لیا، لیکن اس کے باوجود آئی پی او میں سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کار پہلے دن خسارے میں رہے۔

آئی پی او کے تحت کمپنی کے شیئرز 99 روپے فی شیئر کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ بدھ کو بی ایس ای پر ان کی لسٹنگ 24.24 فیصد ڈسکاؤنٹ کے ساتھ 75 روپے پر ہوئی، جبکہ این ایس ای پرشیئرز 27.27 فیصد ڈسکاؤنٹ کے ساتھ 72 روپے پر لسٹ ہوئے۔لسٹنگ کے بعدشیئرز میں مزید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا اور قیمت گر کر 70 روپے تک پہنچ گئی۔ تاہم اس سطح پر خریداری بڑھنے کے بعد شیئرز کی قیمت میں بہتری آنے لگی اور کچھ ہی دیر میں یہ 75.60 روپے کے اپر سرکٹ تک پہنچ گئی۔

اس طرح پہلے روز کاروبار کے دوران اپر سرکٹ لگنے کے باوجود آئی پی او کے سرمایہ کاروں کو جاری قیمت 99 روپے کے مقابلے میں 23.40 روپے فی شیئر، یعنی 23.64 فیصد کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

اَنّو پروجیکٹس کا 175.06 کروڑ روپے کا آئی پی او 25 سے 28 اگست تک سبسکرپشن کے لیے کھولا گیا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی جانب سے اوسط ردعمل ملا اور یہ مجموعی طور پر 2.93 گنا سبسکرائب ہوا۔

کوالیفائیڈ انسٹی ٹیوشنل بائرز(کیو آئی بی) کے لیے مختص حصہ 1.72 گنا سبسکرائب ہوا، جبکہ نان انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز (این آئی آئی) کے حصے کو 3.55 گنا سبسکرپشن حاصل ہوئی۔ ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصہ 2.68 گنا سبسکرائب ہوا۔ آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو والے مجموعی طور پر 1,76,83,000 نئے شیئرز جاری کیے گئے ہیں۔کمپنی کے مطابق آئی پی او سے حاصل ہونے والی رقم کا استعمال نئی مشینری اور آلات خریدنے، موجودہ قرض کا بوجھ کم کرنے، ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات پوری کرنے، آئی پی او سے متعلق اخراجات کی ادائیگی اور دیگر عمومی کارپوریٹ مقاصد کے لیے کیا جائے گا۔

سیبی کے پاس جمع کرائے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس(ڈی آر ایچ پی) میں دستیاب معلومات کے مطابق کمپنی کے منافع میں گزشتہ برسوں کے دوران مسلسل اضافہ ہوا ہے۔مالی سال 2023-24 میں کمپنی کو 17.39 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 21.10 کروڑ روپے ہوگیا۔ مالی سال 2025-26 میں کمپنی کا خالص منافع مزید بڑھ کر 33.03 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

کمپنی کی مجموعی آمدنی میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مالی سال 2023-24 میں کمپنی کی آمدنی 155.42 کروڑ روپے تھی، جو 2024-25 میں بڑھ کر 182.35 کروڑ روپے ہوگئی۔مالی سال 2025-26 میں کمپنی کی آمدنی میں مزید اضافہ ہوا اور یہ 244.59 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

کمپنی کی مالی کارکردگی میں بہتری کے ساتھ اس پر قرض کا بوجھ بھی بڑھا ہے۔مالی سال 2023-24 کے اختتام پر کمپنی پر 19.69 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 22.27 کروڑ روپے ہوگیا۔ مالی سال 2025-26 میں کمپنی کا قرض نمایاں طور پر بڑھ کر 52.54 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande