
نئی دہلی، 2 ستمبر(ہ س)۔
دہلی ہائی کورٹ نے بھارت آ کر شمال مشرقی ریاستوں کے نسلی گروہوں کو مبینہ طور پر تربیت دینے کے الزام میں گرفتار یوکرینی شہریوں کو جیل میں اپنے اہل خانہ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ’ای-ملاقات‘ کی اجازت نہ دینے کے خلاف دائر عرضی پر نوٹس جاری کیا ہے۔ جسٹس نوین چاولہ کی سربراہی والی بنچ نے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔ معاملے کی اگلی سماعت 21 ستمبر کو ہوگی۔
عرضی میں چھ یوکرینی شہریوں نے 26 دسمبر 2022 کے اس سرکلر کو چیلنج کیا ہے، جس کے تحت غیر ملکی شہریوں کو ای-ملاقات کے ذریعے اپنے اہل خانہ سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ سرکلر آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ کسی قیدی کو اپنے اہل خانہ سے ملاقات یا رابطے کی اجازت نہ دینا اس کی عزتِ نفس اور ذہنی صحت کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ اسے سماج سے جڑے رہنے سے بھی محروم کرتا ہے۔حال ہی میں ہائی کورٹ نے ان غیر ملکی شہریوں کے خلاف تحقیقات کی مدت 90 دن سے بڑھا کر 180 دن کرنے کے ٹرائل کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی عرضی بھی خارج کر دی تھی۔
ان غیر ملکی شہریوں پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر میانمار میں داخل ہوئے اور میزورم کے محفوظ علاقوں میں داخل ہو کر نسلی گروہوں سے رابطہ قائم کیا۔ ان پر غیر قانونی ہتھیاروں کی فراہمی، نسلی گروہوں کو تربیت دینے اور انہیں ڈرون چلانے میں مدد کرنے کا بھی الزام ہے۔ان سات غیر ملکی شہریوں میں چھ یوکرینی اور ایک امریکی شہری شامل ہے۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے مطابق یہ غیر ملکی ویزا پر بھارت آئے اور اس کے بعد محفوظ علاقہ میزورم میں داخل ہوئے۔ وہاں سے وہ میانمار گئے اور نسلی مسلح گروہوں سے رابطہ قائم کیا۔
این آئی اے کے مطابق ان غیر ملکی شہریوں کو میانمار میں تربیت دی گئی تھی، جس کے بعد وہ نسلی مسلح گروہوں کو تربیت فراہم کر رہے تھے۔ یہ گروہ بھارت میں سرگرم بعض باغی گروہوں سے وابستہ ہیں۔ یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ مذکورہ افراد یورپ سے ڈرونز کی ایک بڑی کھیپ لے کر آئے تھے۔ این آئی اے نے ان کے خلاف یو اے پی اے کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan