جموں شہر میں غیر محفوظ عمارتوں کی نشاندہی کے لیے مہم شروع۔
جموں, 18 ستمبر (ہ س)۔ عوامی تحفظ کے پیش نظر جموں میونسپل کارپوریشن نے شہر میں خستہ حال، خطرناک اور ساختی طور پر غیر محفوظ عمارتوں کی نشاندہی اور معائنے کیلئے خصوصی مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کے دوران اولڈ سٹی اور ادارہ جاتی عمارتوں پر خصوصی توجہ د
COM JMC


جموں, 18 ستمبر (ہ س)۔

عوامی تحفظ کے پیش نظر جموں میونسپل کارپوریشن نے شہر میں خستہ حال، خطرناک اور ساختی طور پر غیر محفوظ عمارتوں کی نشاندہی اور معائنے کیلئے خصوصی مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کے دوران اولڈ سٹی اور ادارہ جاتی عمارتوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔جے ایم سی کمشنر دیوانش یادو نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 15 غیر محفوظ عمارتوں کی نشاندہی کرکے انہیں باضابطہ طور پر غیر محفوظ قرار دیا گیا اور بعد میں منہدم کیا گیا۔ اب وارڈ سطح پر انجینئرز اور انفورسمنٹ افسران پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو ممکنہ طور پر خطرناک عمارتوں کا موقع پر معائنہ کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ ٹیموں کو 15 دن کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ معائنے کے دوران عمارت کے ستونوں، بنیادوں، پانی کے رساؤ، خستہ حالی اور لینڈ سلائیڈنگ سے متعلق خطرات کا جائزہ لیا جائے گا۔ رپورٹ میں عمارت کا مقام، ملکیت، موجودہ حالت، خطرے کی نوعیت اور مزید کارروائی کیلئے سفارشات شامل ہوں گی۔دیونش یادو نے بتایا کہ 50 سال یا اس سے زیادہ پرانی رہائشی عمارتوں، خصوصاً خستہ حال عمارتوں، کا بھی معائنہ کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر غیر محفوظ عمارت کو منہدم کرنا ضروری نہیں ہوگا بلکہ ماہر انجینئرز یہ بھی جائزہ لیں گے کہ آیا اسے ریٹروفٹنگ یا ساختی مضبوطی کے ذریعے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معائنہ رپورٹس کی بنیاد پر فوری کارروائی کی ضرورت والی عمارتوں کو ترجیح دی جائے گی اور متعلقہ قوانین کے تحت ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔دریں اثنا،جے ایم سی نے سڑکوں پر گڑھوں اور دیگر شہری مسائل کی نشاندہی کیلئے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام بھی متعارف کرایا ہے۔ اس نظام کے تحت جے ایم سی کی کچرا جمع کرنے والی گاڑیوں پر نصب کیمروں سے سڑکوں کی نگرانی کی جائے گی، جو گڑھوں کے علاوہ سڑک کنارے کچرے کے ڈھیر، گرے ہوئے کھمبوں اور دیگر شہری مسائل کی نشاندہی کریں گے۔کمشنر نے کہا کہ نشاندہی کئے گئے مقامات کی فہرست فیلڈ ٹیموں کو فراہم کی جائے گی تاکہ ضروری مرمت اور دیگر اقدامات بروقت کئے جا سکیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande