
نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔
ہندوستان نے امریکہ کے ”لنڈسے او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ، 2026“ کے ممکنہ اثرات کے سلسلے میں امریکی انتظامیہ کی اعلیٰ سطح پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے واضح طور پر بتایا ہے کہ اس قانون کا ہندوستان کی توانائی سلامتی، بین الاقوامی توانائی بازار اور مجموعی طور پر ہندوستان-امریکہ تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے۔
جیسوال نے جمعہ کو وزارت خارجہ کی دو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں اس قانون سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان پہلے ہی امریکی انتظامیہ کی اعلیٰ سطح پر یہ بات رکھ چکا ہے کہ مجوزہ قانون کے کیا کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ”ہم نے پہلے ہی امریکی انتظامیہ کی اعلیٰ سطح پر یہ بات رکھ دی ہے کہ اس قانون کے ہندوستان کی توانائی سلامتی، بین الاقوامی توانائی بازار اور مجموعی تعلقات پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں۔“
ترجمان نے کہا کہ فی الحال اس معاملے میں ان کے پاس مزید کچھ کہنے کے لیے نہیں ہے۔
امریکی کانگریس نے ”لنڈسے او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ، 2026“ کو منظوری دے دی ہے۔ اس قانون میں روس سے توانائی خریدنے والے ممالک پر اضافی محصولات عائد کرنے سمیت روس اور ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی دفعات شامل ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ