بی آر ایس سوشل میڈیا کنوینر کرشنک کو پولیس نے کیا گرفتار
حیدرآباد ،18 ستمبر(ہ س)۔ بھارت راشٹرسمیتی کے سوشل میڈیا کنوینرایم کرشنک کی رہائش گاہ کے دروازے توڑکر انہیں پولیس نے جمعہ، 18 ستمبرکوگرفتارکرلیا۔ یہ کارروائی سوشل میڈیا پرکی گئی ایک پوسٹ کے سلسلے میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کے بعد عمل میں آئ
بی آر ایس سوشل میڈیا کنوینر کرشنک کی گرفتاری


حیدرآباد ،18 ستمبر(ہ س)۔

بھارت راشٹرسمیتی کے سوشل میڈیا کنوینرایم کرشنک کی رہائش گاہ کے دروازے توڑکر انہیں پولیس نے جمعہ، 18 ستمبرکوگرفتارکرلیا۔ یہ کارروائی سوشل میڈیا پرکی گئی ایک پوسٹ کے سلسلے میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کے بعد عمل میں آئی۔ کرشنک کے گھرکے باہرصبح سویرے سے ہی پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی اورافسران صبح 5 بجے کے قریب ہی وہاں پہنچ گئے تھے۔ جیسے ہی پولیس کی کارروائی کی خبر پھیلی، بی آرایس کا لیگل سیل اورپارٹی کے سینئررہنما فوری طورپران کی رہائش گاہ پہنچے اورپولیس کوگھرمیں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی، لیکن افسران نے زبردستی دروازہ کھولااورکرشنک کوحراست میں لے لیا۔ سوشل میڈیاپرایسی ویڈیوزسامنے آئی ہیں جن میں پولیس کوگھرمیں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا جاسکتاہے۔ صبح کے ہنگامے کے دوران، جب پولیس گیٹ پردستک دے رہی تھی اورتالا توڑنے کی کوشش کررہی تھی،توان کی بیٹی کو بھی خوفزدہ حالت میں دیکھاجاسکتا ہے۔ بی آرایس نے اس گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے الزام عائدکیا ہے کہ یہ کانگریس حکومت کی جانب سے اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے لیے پولیس کے استعمال کی ایک اورمثال ہے۔ پارٹی نے نشاندہی کی کہ کارپوریشن کے سابق چیئرمین کرشنک کواب اپنی سوشل میڈیاسرگرمیوں کی وجہ سے متعدد مقدمات کا سامنا کرناپڑرہاہے۔ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب تلنگانہ ہائی کورٹ اورسپریم کورٹ دونوں ہی پولیس کوسوشل میڈیاپرسیاسی تنقیدکی بنیادپراندھادھند مقدمات درج کرنے یا گرفتاریاں کرنے سے روک چکے ہیں۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے اس سے قبل فیصلہ دیا تھاکہ پولیس محض اس بنیاد پرمقدمہ درج نہیں کرسکتی کہ کوئی سیاسی پوسٹ سخت،غیرمقبول یاحکومت پرتنقید پرمبنی ہے،الایہ کہ بظاہرایسے شواہدموجود ہوں جوتشدد یاعوامی بدامنی پراکسانے کی نشاندہی کرتے ہوں؛ سپریم کورٹ نے بھی اس موقف کی توثیق کی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande