
نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔
راوز ایونیو عدالت نے مسلمانوں اور سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے کے معاملے میں آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے متعلق درخواست پر ویلکم اور بھجن پورہ تھانوں کے ایس ایچ اوز کو طلب کیا ہے۔ عدالت نے دونوں تھانوں کے ایس ایچ اوز کو 13 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے پر سماعت کرتے ہوئے جنوبی ضلع کے سائبر تھانے کے ایس ایچ او کو عدالت میں پیش ہو کر ایکشن ٹیکن رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ دونوں معاملات کی سماعت 13 اکتوبر کو ہوگی۔
جمعہ کو سماعت کے دوران ہیمنت بسوا سرما کے خلاف دائر معاملے میں ویلکم تھانے کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی کہ جس ویڈیو کا ذکر کیا گیا ہے، وہ بھجن پورہ تھانے کے علاقے سے متعلق ہے، اس لیے شکایت کو بھجن پورہ تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔
عدالت نے پایا کہ اس سے قبل بھجن پورہ تھانے نے شکایت کو ویلکم تھانے منتقل کر دیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ دونوں تھانوں کی جانب سے مقدمہ منتقل کرنے کا حکم کس قانونی شق کے تحت دیا گیا، اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ دونوں تھانوں نے اپنی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا ہے کہ جرم کا ارتکاب ہوا ہے یا نہیں۔
اس کے بعد عدالت نے دونوں تھانوں کے ایس ایچ اوز کو طلب کرنے کا حکم دیا۔
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کے خلاف شکایت کے معاملے میں عدالت کو بتایا گیا کہ مالویہ نگر کے سب انسپکٹر (ایس آئی) اجے نے نایب کورٹ کو واٹس ایپ پر رپورٹ کی تصویر بھیجی ہے۔ عدالت نے مالویہ نگر تھانے کے ایس ایچ او کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ اصل رپورٹ کیوں داخل نہیں کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شکایت کو جنوبی ضلع کے سائبر تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں بھی یہ نہیں بتایا گیا کہ کس قانونی شق کے تحت شکایت سائبر تھانے منتقل کی گئی۔ اس کے بعد عدالت نے مالویہ نگر تھانے کے ایس ایچ او کو عدالت میں پیش ہو کر وضاحت دینے کی ہدایت دی۔
عدالت نے 7 اگست کو دونوں معاملات کی سماعت کرتے ہوئے دہلی پولیس سے ایکشن ٹیکن رپورٹ طلب کی تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ