سلیکون کی دنیا میں بھارت کی مضبوط دستک
نئی دہلی، 17 ستمبر (ہ س)۔ سیمی کنڈکٹر یا چِپ آج صرف موبائل اور کمپیوٹر کا ایک چھوٹا سا حصہ نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ موبائل فون، کار، طیارے، ڈرون، سیٹلائٹ، طبی آلات، ٹیلی کمیونیکیشن، کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت کے نظام سبھی
سلیکون کی دنیا میں بھارت کی مضبوط دستک


نئی دہلی، 17 ستمبر (ہ س)۔

سیمی کنڈکٹر یا چِپ آج صرف موبائل اور کمپیوٹر کا ایک چھوٹا سا حصہ نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ موبائل فون، کار، طیارے، ڈرون، سیٹلائٹ، طبی آلات، ٹیلی کمیونیکیشن، کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت کے نظام سبھی کسی نہ کسی شکل میں چِپ پر منحصر ہیں۔ اسی لیے سیمی کنڈکٹر کو اقتصادی اور اسٹریٹجک اہمیت کی ٹیکنالوجی سمجھا جاتا ہے۔

بھارت نے گزشتہ ایک دہائی میں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں نمایاں ترقی کی ہے۔ 2014 -15 میں الیکٹرانک سامان کی پیداوار تقریباً 1.9 لاکھ کروڑ روپے تھی، جو 2025-26 میں بڑھ کر 13.11 لاکھ کروڑ روپے ہوگئی۔ الیکٹرانکس کی برآمدات بھی تقریباً 38 ہزار کروڑ سے بڑھ کر 4.24 لاکھ کروڑ روپے ہوگئیں۔ موبائل فون کی پیداوار 18 ہزار کروڑ سے بڑھ کر 6.27 لاکھ کروڑ روپے اور اس کی برآمدات 1,500 کروڑ سے بڑھ کر 2.59 لاکھ کروڑ روپے ہوگئیں۔ اس شعبے سے اب تقریباً 25 لاکھ افراد کو روزگار مل رہا ہے۔

بھارت کے سامنے اصل چیلنج صرف چِپ فیکٹریاں قائم کرنا نہیں بلکہ پورا سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم تیار کرنا ہے۔ اس کے لیے چِپ ڈیزائن، ڈیزائن سافٹ ویئر، جدید مشینیں، خصوصی کیمیکل اور گیسیں، سلیکان ویفر، پیکیجنگ، ٹیسٹنگ، بجلی و پانی، لاجسٹکس اور تربیت یافتہ ماہرین سب کی ضرورت ہے۔

سیمی کون انڈیا پروگرام

دسمبر 2021 میں حکومت نے سیمی کون انڈیا پروگرام شروع کیا اور اس کے لیے 76 ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ اس کا مقصد سیمی کنڈکٹر اور ڈسپلے مینوفیکچرنگ، پیکیجنگ، کمپاو¿نڈ سیمی کنڈکٹر اور چِپ ڈیزائن کے شعبوں کو فروغ دینا تھا۔ اب سیمی کون انڈیا پروگرام 2.0 کے تحت یہ رقم بڑھا کر تقریباً 1.27 لاکھ کروڑ روپے کردی گئی ہے۔ اس کا دائرہ چِپ ڈیزائن، مینوفیکچرنگ، آلات و مواد، ایڈوانسڈ پیکیجنگ، تحقیق و ترقی اور ہنرمند افرادی قوت تک پھیلا دیا گیا ہے۔

چِپ ڈیزائن پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ حکومت نے اس دہائی میں 85 ہزار تربیت یافتہ سیمی کنڈکٹر انجینئروں کی تیاری کا ہدف رکھا ہے۔ ’چِپس ٹو اسٹارٹ اپ‘ پروگرام کے تحت 320 تعلیمی اداروں میں الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن کے آلات اور سافٹ ویئر فراہم کیے گئے ہیں اور 68 ہزار سے زائد طلبہ کو تربیت دی جاچکی ہے۔

24 سیمی کنڈکٹر ڈیزائن منصوبوں کو مالی مدد کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ ڈیزائن لنکڈ انسینٹیو اسکیم کے تحت 105 اسٹارٹ اپس اور چھوٹے و درمیانے اداروں کو بھی مدد دی گئی ہے۔ اپریل 2026 تک 75 اداروں نے 211 چِپ ڈیزائن تیار کرکے ’ٹیپ آو¿ٹ‘ کے مرحلے تک پہنچائے تھے، جن میں 12 نینو میٹر تک کی جدید ٹیکنالوجی والی چِپس بھی شامل ہیں۔

سی-ڈیک کے چِپ مرکز کے ذریعے 500 سے زائد اداروں، جن میں تقریباً 400 تعلیمی ادارے اور 100 اسٹارٹ اپس شامل ہیں، کے ایک لاکھ سے زیادہ انجینئر فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ ان اداروں نے 300 سے زائد چِپ ڈیزائن تیار کیے ہیں اور چِپ ڈیزائن کے آلات کو چار کروڑ سے زیادہ گھنٹے استعمال کیا ہے۔ اس سے چھوٹی کمپنیوں اور تعلیمی اداروں کے لیے اس شعبے میں داخلہ آسان ہوا ہے۔

بھارت کا پیکس سلیکا میں شامل ہونا بھی اس کی بڑھتی ہوئی سیمی کنڈکٹر حکمتِ عملی کی علامت ہے۔ یہ امریکہ کی قیادت میں ایک بین الاقوامی اسٹریٹجک اقدام ہے، جس کا مقصد سیمی کنڈکٹر، مصنوعی ذہانت اور نایاب معدنیات کی سپلائی چین کو محفوظ اور مضبوط بنانا ہے، تاکہ اہم ٹیکنالوجی کی سپلائی چند ممالک یا کمپنیوں تک محدود نہ رہے۔

مجموعی طور پر سیمی کون انڈیا 2026 صرف ایک نمائش نہیں بلکہ بھارت کی بڑھتی ہوئی تکنیکی صلاحیت اور سیمی کنڈکٹر شعبے میں اس کے عزائم کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ اس کے ذریعے عالمی کمپنیوں کو بھارت کے ساتھ تعاون اور نئے بھارت کی تکنیکی ترقی میں شراکت داری کا موقع فراہم کیا جارہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande