ایم پی میں دو دہائیوں میں صحت کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل ہوا، میڈیکل کالجوں، اسپتال، بیڈز اور خصوصی خدمات میں اضافہ
ایم پی میں دو دہائیوں میں صحت کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل ہوا، میڈیکل کالجوں، اسپتال، بیڈز اور خصوصی خدمات میں اضافہ ۔ میڈیکل کالجوں کی تعداد 33 اور طبی تعلیم کی کل نشستیں 8,675 ہوئیں بھوپال، 17 ستمبر (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ط
علامتی تصویر


ایم پی میں دو دہائیوں میں صحت کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل ہوا، میڈیکل کالجوں، اسپتال، بیڈز اور خصوصی خدمات میں اضافہ

۔ میڈیکل کالجوں کی تعداد 33 اور طبی تعلیم کی کل نشستیں 8,675 ہوئیں

بھوپال، 17 ستمبر (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران طبی تعلیم اور صحت کی خدمات کا وسیع دائرہ کار سامنے آیا ہے۔ سال 2002 میں ریاست کے اندر جہاں محض 5 میڈیکل کالجز تھے، وہیں سال 2026 میں ان کی تعداد بڑھ کر 33 ہو گئی ہے۔ طبی تعلیم کی مجموعی سیٹیں بھی 620 سے بڑھ کر 8,675 ہو گئی ہیں۔

رابطہ عامہ افسر انکش مشرا نے جمعرات کے روز بتایا کہ سال 2023 کے بعد وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت میں طبی تعلیم کے فروغ کو طبی خدمات کی صلاحیت بڑھانے کی اہم بنیاد مانتے ہوئے نئے میڈیکل کالجوں، ماہرانہ شعبہ جات، ضروری انسانی وسائل اور جدید ترین طریقہ علاج کی سہولیات کی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس کا اثر ریاست میں طبی تعلیم کے مواقع کے ساتھ ساتھ ماہرانہ اور اعلیٰ سطحی علاج و معالجے کی دستیابی میں اضافے کی صورت میں نظر آ رہا ہے۔

میڈیکل کالجوں کی توسیع سے بڑھی طبی تعلیم کی صلاحیت

انہوں نے بتایا کہ ریاست میں میڈیکل کالجوں کی توسیع کے ساتھ طبی تعلیم کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ سال 2002 میں 5 میڈیکل کالجوں سے شروع ہونے والا یہ نیٹ ورک سال 2026 میں 33 میڈیکل کالجوں تک جا پہنچا ہے۔ اسی مدت کے دوران میڈیکل ایجوکیشن کی مجموعی نشستیں 620 سے بڑھ کر 8,675 ہو گئی ہیں۔ سال 2023 کے بعد طبی تعلیم کو صحت کی سہولیات کے دائرے کو وسعت دینے کی اہم بنیاد سمجھتے ہوئے نئے میڈیکل کالجوں، اسپیشلسٹ ڈپارٹمنٹس اور ناگزیر انسانی وسائل کو فروغ دینے پر خاص دھیان دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے ریاست کے مختلف علاقوں میں طبی تعلیم کے مواقع بڑھانے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو علاج کی معیاری سہولیات بہم پہنچانے کی سمت میں کاموں کو اولین ترجیح دی ہے۔

ماہرانہ اور سپر اسپیشلٹی علاج کی توسیع

رابطہ عامہ افسر نے بتایا کہ میڈیکل کالجوں کے دائرے میں اضافے کے ساتھ ریاست میں اعلیٰ سطحی علاج کی سہولیات کا دائرہ بھی وسیع ہوا ہے۔ سال 2002 میں سپر اسپیشلٹی اسپتالوں کی تعداد صفر تھی، جو سال 2026 میں بڑھ کر 4 ہو گئی ہے۔ پیتھالوجی سروسز کی دستیابی بھی 45 سے بڑھ کر 134 تک پہنچ گئی ہے۔ کینسر جیسے مہلک امراض کے علاج کے لیے میڈیکل کالجوں میں ماہرانہ خدمات کو وسعت دینے اور جدید تشخیص و علاج کی سہولیات مہیا کرانے کے لیے سال 26-2023 کے دوران خصوصی کاوشیں کی گئی ہیں۔ اہم میڈیکل کالجوں میں آنکو سرجری ڈپارٹمنٹ اور کیتھ لیب جیسی سہولیات کے دائرے کو بڑھانے کے ایکشن پلان پر بھی زور دیا گیا ہے۔

صحت کے بنیادی ڈھانچے میں ہمہ جہت ترقی

سال 2002 کے مقابلے سال 2026 میں ریاست کے طبی اداروں کے نیٹ ورک میں بھی غیر معمولی توسیع دیکھنے میں آئی ہے۔ ضلع اسپتالوں کی تعداد 36 سے بڑھ کر 55، سول اسپتال 58 سے بڑھ کر 158، کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز 229 سے بڑھ کر 348 اور پرائمری ہیلتھ سینٹرز 1,194 سے بڑھ کر 1,442 ہو گئے ہیں۔ ذیلی مراکز صحت (سب ہیلتھ سینٹرز) کی تعداد بھی 8,835 سے بڑھ کر 10,256 تک پہنچ گئی ہے۔ عام بیڈز کی تعداد 21,234 سے بڑھ کر 61,817 اور آئی سی یو بیڈز 277 سے بڑھ کر 3,395 ہو گئے ہیں۔

2023 کے بعد انسانی وسائل کا استحکام

رابطہ عامہ افسر نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کے دورِ اقتدار میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ افرادی قوت کو بھی فوقیت دی گئی ہے۔ سال 2024 میں طبی اداروں میں 46,491 نئی اسامیوں کی منظوری دی گئی۔ ان میں مستقل، کنٹریکٹ اور آوٹ سورس اسامیاں شامل ہیں۔ ماہر ڈاکٹروں کی خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے سلسلے میں بھی ٹھوس فیصلے لیے گئے۔ نرسنگ کیڈر کی بھرتی، میڈیکل کالجوں میں ضروری افرادی قوت کی فراہمی اور ماہرانہ خدمات کو مستحکم بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

ژچہ بچہ کی صحت میں متواتر بہتری

صحت کی خدمات کے فروغ کا اثر ماں اور نوزائیدہ بچے کی صحت سے متعلق اہم اشاریوں میں بھی واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ سال 2002 میں زچگی کے دوران اموات کی شرح (ایم ایم آر) 379 تھی، جو سال 2026 میں گھٹ کر 135 پر آ گئی ہے۔ اسی عرصے کے دوران نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات 82 سے کم ہو کر 35 رہ گئی ہے۔ ادارہ جاتی زچگی کی شرح سال 2002 کے 35 فیصد سے بڑھ کر سال 2026 میں 98 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ حاملہ خواتین کے بروقت اندراج، زچگی سے قبل طبی جانچ، اسپتالوں میں زچگی اور زیادہ خطرے والی حمل کی حالتوں کی قبل از وقت شناخت جیسی خدمات پر مسلسل زور دیا جا رہا ہے۔

دور دراز علاقوں تک پہنچیں طبی سہولیات

ریاست کے دور دراز اور قبائلی علاقوں تک صحت کی سہولیات کو پہنچانے کے لیے سال 2025 میں پردھان منتری جن من ابھیان کے تحت 66 موبائل میڈیکل یونٹس شروع کی گئیں۔ یہ یونٹس 21 اضلاع کے 87 بلاکس کے 1,268 دیہاتوں تک طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے فعال کی گئیں۔ ان میں طبی مشورہ، جانچ، ادویات، ماں و بچے کی نگہداشت اور مختلف امراض کی اسکریننگ جیسی سہولیات شامل ہیں۔

ہنگامی طبی خدمات اور مریضوں کی منتقلی کے نظام میں بھی خاطر خواہ وسعت لائی گئی ہے۔ ریاست میں ایمبولینس خدمات کی تعداد سال 2002 کے 256 سے بڑھ کر سال 2026 میں 2,052 ہو گئی ہے۔ پی ایم شری ایئر ایمبولینس سروس کے ذریعے ہنگامی حالات میں مریضوں کو بروقت اعلیٰ سطحی علاج گاہوں تک پہنچانے کے نظام کو تقویت ملی ہے۔ ضروری ادویات کی دستیابی والے اداروں کی تعداد بھی سال 2002 کے 214 سے بڑھ کر 2026 میں 650 ہو گئی ہے۔

آیوشمان بھارت سے علاج تک معاشی رسائی

انہوں نے بتایا کہ طبی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ علاج تک شہریوں کی معاشی رسائی کو آسان بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے تحت اہل خاندانوں کو معیاری علاج کی سہولت فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ سال 26-2023 کے دوران زیادہ سے زیادہ اسپتالوں اور ڈاکٹروں کو اس اسکیم سے جوڑنے، اس کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور مستحقین کو علاج کی مفت سہولیات میسر کرانے پر مسلسل کام ہو رہا ہے۔

ابتدائی طبی مراکز سے لے کر میڈیکل کالجوں اور سپر اسپیشلٹی تک قائم ہوا نیٹ ورک

مدھیہ پردیش میں صحت کے شعبے کی توسیع اب پرائمری ہیلتھ سینٹرز اور سب ہیلتھ سینٹرز سے لے کر ضلع اسپتالوں، میڈیکل کالجوں اور سپر اسپیشلٹی اسپتالوں تک ایک جامع و مربوط نظام کی شکل میں نظر آ رہی ہے۔ سال 2002 سے 2026 کے درمیان میڈیکل کالجوں اور طبی تعلیم کی گنجائش میں ہونے والے اضافے نے ریاست میں ماہر اطباء اور اعلیٰ پائے کے طبی علاج کی فراہمی کی مضبوط بنیاد استوار کی ہے۔ وہیں سال 2023 کے بعد بنیادی ڈھانچے، افرادی قوت، جدید ٹیکنالوجی، موبائل ہیلتھ سروسز اور معاشی طور پر کمزور خاندانوں تک علاج کی رسائی کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande