
تہران، 16 ستمبر (ہ۔س)۔ غزہ میں صحت کی خدمات پر ایک اور بحران منڈلانے لگا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البرش کے مطابق، فنڈز کی کمی کے باعث عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) 19 ستمبر سے غزہ کے 20 سے زائد اسپتالوں اور صحت مراکز کو ڈیزل کی فراہمی بند کر سکتا ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نیوز کے مطابق، البرش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں خبردار کیا کہ ایندھن کی فراہمی رکنے سے غزہ کا پہلے ہی شدید دباو کا شکار نظامِ صحت مزید مشکلات سے دوچار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دستیاب محدود مقدار میں ایندھن بھی صحت مراکز کو چلائے رکھنے کے لیے بمشکل کافی ہے۔
البرش نے کہا کہ ڈیزل کی فراہمی بند ہونے کا اثر صرف اسپتالوں کے جنریٹروں تک محدود نہیں رہے گا۔ ان کے مطابق اس سے آپریشن تھیٹرز، انتہائی نگہداشت کے یونٹس (آئی سی یو)، وینٹی لیٹرز اور آکسیجن نظام بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ انکیوبیٹرز میں زیر علاج نومولود بچوں، ڈائیلاسس کے مریضوں، زخمیوں اور شدید بیمار افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ ان کے مطابق ایمبولینس سروسز کی کارکردگی اور ادویات و ویکسین کے لیے ضروری کولڈ چین نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے عہدیدار نے عالمی ادارہ صحت، عطیہ دہندگان اور عالمی برادری سے اس فیصلے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی اپیل کی۔ البرش نے ایندھن کے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسپتالوں اور صحت مراکز کو ضروری ایندھن دستیاب نہ ہونے کی صورت میں مریضوں کو ایسے جان لیوا حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن سے بچا جا سکتا ہے۔
تاہم، عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اس دعوے یا 19 ستمبر سے ڈیزل کی فراہمی بند کرنے کے فیصلے پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی