نیپال میں سیلاب کی سائنسی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے سات رکنی ماہرین کی کمیٹی تشکیل
کاٹھمنڈو، 16 ستمبر (ہ س):۔ نیپال حکومت نے رسوا ضلع میں واقع بھوٹے کوسی ندی میں آنے والے تباہ کن سیلاب کی سائنسی وجوہات اور شواہد اکٹھا کرنے کے لیے سات رکنی ماہرین کی ایک مطالعاتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ وزارتِ توانائی، آبی وسائل اور آب پاشی نے بدھ کے
نیپال میں سیلاب کی سائنسی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے سات رکنی ماہرین کی کمیٹی تشکیل


کاٹھمنڈو، 16 ستمبر (ہ س):۔

نیپال حکومت نے رسوا ضلع میں واقع بھوٹے کوسی ندی میں آنے والے تباہ کن سیلاب کی سائنسی وجوہات اور شواہد اکٹھا کرنے کے لیے سات رکنی ماہرین کی ایک مطالعاتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

وزارتِ توانائی، آبی وسائل اور آب پاشی نے بدھ کے روز آبی پالیسی کے ماہر دیویش بیلباسے کی سربراہی میں اس کمیٹی کی تشکیل کی۔ کمیٹی میں آبی امور کے ماہر ڈاکٹر نریندرمان شاکیہ، گلیشیئرز کے ماہر ڈاکٹر رِزن بھکت کایستھ، ریموٹ سینسنگ کے ماہر ڈاکٹر اتم بابو شریسٹھ، ماہرِ ارضیات ڈاکٹر میگھ راج دھیتال، پن بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے ماہر ڈاکٹر ہری پنڈت اور آفات کے خطرات میں کمی کے ماہر انیل پوکھریل شامل ہیں۔

وزارت کے ترجمان موہن شاکیہ کے مطابق یہ کمیٹی سیلاب کے ممکنہ نقطہ آغاز سے لے کر پورے متاثرہ ساحلی علاقے تک زمینی سطح پر مطالعاتی جائزہ لے گی۔ اس مطالعے کا مقصد بھوٹے کوسی سیلاب کے آغاز، اس سے وابستہ ہمالیائی جغرافیائی خطرات، واقعات کی ترتیب اور اس میں موسمیاتی تبدیلی کے ممکنہ کردار کا سائنسی تجزیہ کرنا ہے۔

آبی وسائل اور توانائی کمیشن کے سکریٹریٹ نے بھوٹے کوسی سیلاب کو بالائی ہمالیائی علاقے میں پیدا ہونے والے مختلف ارضیاتی، برفانی اور آبی خطرات کے باہم ملنے سے پیدا ہونے والی ممکنہ ’سلسلہ وار آفت‘ کے طور پر مطالعہ کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ اسی بنیاد پر وزارت نے سائنسی تحقیق کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

مرکز نے تجویز دی تھی کہ سیلاب کی وجہ موسمیاتی تبدیلی کو قرار دینے سے قبل پورے واقعے کا سائنسی مطالعہ ضروری ہے۔ اب ارضیات، درجہ حرارت اور پانی سے متعلق تمام پہلوو¿ں کا جامع جائزہ لیا جائے گا۔

ترجمان شاکیہ نے بتایا کہ بھوٹے کوسی سیلاب سے تریشولی کوریڈور متاثر ہوا ہے۔ مستقبل میں اگر اسی نوعیت کی آفتیں دیگر ندی نظاموں میں آتی ہیں تو توانائی کی وزارت کے مختلف بنیادی ڈھانچوں پر بھی براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے وزارت نے یہ مطالعہ شروع کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande