(انٹرویو)۔۔۔۔۔۔ ادبی ورثہ ضرور ملا، لیکن میں نے فلموں کو اپنا راستہ بنایا: کنال کھیمو
کچھ فن کار ایسے ہوتے ہیں جن کا سفر صرف پردہ سیمیں تک محدود نہیں رہتا۔ وہ اپنے کام کے ساتھ مسلسل کچھ نیا تلاش کرتے رہتے ہیں اور اسی سفر میں اپنی الگ شناخت قائم کر لیتے ہیں۔ کنال کھیمو بھی ایسے ہی فن کار ہیں۔ بطور چائلڈ آرٹسٹ کیمرے کے سامنے آنے والے
کھیمو


کچھ فن کار ایسے ہوتے ہیں جن کا سفر صرف پردہ سیمیں تک محدود نہیں رہتا۔ وہ اپنے کام کے ساتھ مسلسل کچھ نیا تلاش کرتے رہتے ہیں اور اسی سفر میں اپنی الگ شناخت قائم کر لیتے ہیں۔ کنال کھیمو بھی ایسے ہی فن کار ہیں۔ بطور چائلڈ آرٹسٹ کیمرے کے سامنے آنے والے کنال نے اداکار کی حیثیت سے اپنی شناخت بنائی اور بعد ازاں تحریر و ہدایت کاری کی جانب بھی قدم بڑھایا۔ بچپن سے شروع ہونے والا ان کا یہ سفر اب کہانی سنانے کے ایک نئے مرحلے تک پہنچ چکا ہے۔

’سر‘، ’ہم ہیں راہی پیار کے‘، ’راجہ ہندوستانی‘، ’زخم‘ اور ’کل یگ‘ جیسی فلموں میں نظر آ چکے کنال نے ’مڈگاوں ایکسپریس‘ سے ہدایت کاری کا آغاز کیا۔ اب وہ پروڈیوسر، ہدایت کار اور اداکار کی حیثیت سے اپنی نئی فلم ’وائب‘ کے ساتھ ناظرین کے درمیان آنے کے لیے تیار ہیں۔ اپنے فلمی سفر، تحریر و ہدایت کاری کے تجربے اور اہلیہ سوہا علی خان کے ساتھ اپنے رشتے کے حوالے سے کنال نے ہندستھان سماچار سے کھل کر گفتگو کی۔

سوال: ایک اداکار سے ہدایت کار بننے کا خیال آپ کے ذہن میں کب آیا اور اس کے پیچھے سب سے بڑی تحریک کیا تھی؟

کنال کھیمو: سچ کہوں تو اداکاری کے ساتھ کچھ الگ کرنا چاہتا تھا۔ میں نے کہانی لکھنا اس لیے شروع کیا کیونکہ بطور اداکار میں کچھ مختلف قسم کے کردار ادا کرنا چاہتا تھا۔ جب ’مڈگاوں ایکسپریس‘ کا خیال آیا تو میں نے سوچا کہ جس طرح کے کردار مجھے نہیں مل رہے، ان کے لیے خود ہی کچھ کیوں نہ کیا جائے۔ اس وقت مجھے اسکرپٹ لکھنے کا باقاعدہ طریقہ معلوم نہیں تھا۔ میرے ذہن میں فلم جس طرح چل رہی تھی، میں نے اسی انداز میں اسے کاغذ پر اتار دیا۔

جب کچھ لوگوں نے اسکرپٹ پڑھی تو انہوں نے کہا کہ تمہیں پوری فلم نظر آ رہی ہے، تو پھر تم ہی اس کی ہدایت کاری کیوں نہیں کرتے؟ ابتدا میں مجھے جھجھک ہوئی، لیکن پھر میں نے سوچا کہ اس موقع کو ہدایت کاری سیکھنے کے لیے کیوں نہ استعمال کیا جائے۔ ایکسل انٹرٹینمنٹ نے فلم بنانے کی ذمہ داری سنبھالی اور میں نے ہدایت کاری کا آغاز کر دیا۔

سچ کہوں تو میں نے ہدایت کاری سیٹ پر ہی سیکھی۔ تاہم فلم سازی میں میری دلچسپی بچپن ہی سے رہی ہے۔ میں چھ سال کی عمر سے اداکاری کر رہا ہوں، اس لیے لوگوں کو کام کرتے دیکھنا اور فلم بنانے کے عمل کو سمجھنا میرے سفر کا حصہ رہا ہے۔ بھٹ صاحب کے ساتھ کام کرتے ہوئے بھی اسکرپٹ میٹنگز، گانوں کی ریکارڈنگ اور فلم سازی کے کئی مراحل کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔

’مڈگاوں ایکسپریس‘ بناتے ہوئے مجھے بہت لطف آیا اور جب ناظرین نے فلم کو پسند کیا تو دوبارہ ہدایت کاری کرنے کا دل چاہا۔

سوال: ’مڈگاوں ایکسپریس‘ کے بعد پروڈیوسر، ہدایت کار اور اداکار کی حیثیت سے یہ آپ کی پہلی فلم ہے۔ تینوں ذمہ داریاں ایک ساتھ نبھانا کتنا مشکل رہا؟

کنال کھیمو: سچ کہوں تو مجھے فلم بنانے میں وقت لگتا ہے۔ ’مڈگاوں ایکسپریس‘ کے بعد ہی میں نے اس کہانی پر کام شروع کیا اور پھر براہِ راست فلم بنانے میں مصروف ہوگیا۔ اس دوران بہت سی مشکلات آئیں، لیکن میرے پاس انہیں مسئلہ سمجھ کر بیٹھنے کا وقت نہیں تھا۔ میرے سامنے صرف ایک مقصد تھا کہ کسی بھی طرح فلم مکمل کرنی ہے۔ اس لیے ہر مسئلے کا حل نکالتا ہوا آگے بڑھتا رہا۔

آج پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو وہ مشکلات مجھے رکاوٹ نہیں بلکہ فلم بنانے کے عمل کا حصہ اور ایک سبق محسوس ہوتی ہیں۔ فلم جس طرح بنی ہے، میں اس سے بہت خوش ہوں۔ اب امید ہے کہ ناظرین بھی اسے پسند کریں گے۔

سوال: آپ کے دادا ادب کے شعبے سے وابستہ تھے اور پدم شری سے نوازے گئے تھے۔ کیا ان کے ادبی ماحول اور ورثے کا آپ کی تحریر پر کوئی اثر پڑا؟

کنال کھیمو: میں خود کو بہت زیادہ ادبی شخص نہیں سمجھتا۔ ممکن ہے کہ اس کا کچھ اثر میرے اندر کہیں موجود ہو، لیکن بچپن سے میری دلچسپی کتابوں کے مقابلے میں فلموں اور بصری ذرائع میں زیادہ رہی ہے۔ میرے والدین بھی کبھی کبھی فکر کرتے تھے کہ میں مسلسل فلمیں دیکھتا رہتا ہوں، پڑھائی پر توجہ کب دوں گا؟

میرے دادا ادب کے میدان میں ایک بڑا نام تھے، اس لیے ادبی ورثہ ضرور ملا ہے، لیکن میرا راستہ کچھ مختلف رہا۔ میری دلچسپی فلموں اور تجارتی سنیما کی جانب زیادہ رہی۔ میرے ذہن میں خیالات تو اکثر آتے تھے، لیکن انہیں مناسب انداز میں کاغذ پر اتارنا میں نے بعد میں سیکھا۔ اس لیے جب میری تحریر کو ناظرین اور میرے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کی جانب سے مثبت ردِعمل ملا تو مجھے بہت خوشی ہوئی۔

سوال: فلم ہدایت کاری اور پروڈیوسر کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد کیا کبھی سوہا علی خان کو اپنی فلم میں لینے کا خیال آیا؟

کنال کھیمو: نہیں، خوش قسمتی سے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ سوہا بھی سمجھتی ہیں کہ ایک اداکار کی حیثیت سے ہر کردار ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا۔ انہوں نے کبھی مجھ سے یہ نہیں کہا کہ میرے لیے کوئی کردار لکھو یا مجھے اپنی فلم میں کیوں نہیں لیا۔ اس سے مجھے اپنے انداز میں کام کرنے کی مکمل آزادی ملی۔

جب میں کسی فلم میں مصروف ہوتا ہوں تو پوری طرح اسی میں ڈوب جاتا ہوں۔ ایسے میں کئی بار گھر میں کیا ہو رہا ہے، اس کا بھی خیال نہیں رہتا۔ ایسے وقت میں گھر اور بچوں کی ذمہ داری سنبھالنے میں سوہا کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ ہمارے درمیان یہ شراکت داری میرے لیے بہت اہم ہے۔

جب وہ کچھ نیا کر رہی ہوتی ہیں تو میں بھی ان کا بھرپور ساتھ دیتا ہوں۔ فی الحال وہ پوڈکاسٹ کر رہی ہیں، اس لیے میں بھی ان کے کام کے مطابق اپنے وقت کا خیال رکھتا ہوں۔ ہم دونوں اسی طرح ایک دوسرے کے کام اور ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔

سوال: ہدایت کاری کی ذمہ داری نبھانے کے ساتھ ساتھ اداکاری کرنا آپ کے لیے کتنا مشکل رہا؟

کنال کھیمو: جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر یہ یقیناً تھکا دینے والا تھا، لیکن کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ ہماری تیاری بہت مضبوط تھی، اس لیے کام کافی منظم انداز میں ہوا۔

کئی بار ایسا ہوتا تھا کہ مجھے شاٹ کے لیے تیار ہونا ہوتا تھا اور اسی وقت میرا میک اپ بھی چل رہا ہوتا تھا۔ اس لیے ہم نے شوٹنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہر چیز کی اچھی طرح منصوبہ بندی کرلی تھی۔ تمام شعبوں کو معلوم تھا کہ مجھے ہدایت کاری کے ساتھ اداکاری بھی کرنی ہے۔

ریہرسل، بلاکنگ اور مناظر کی ترتیب پہلے ہی طے ہوتی تھی۔ صبح سیٹ پر پہنچتے ہی پوری ٹیم کو معلوم ہوتا تھا کہ کون سا منظر پہلے شوٹ کرنا ہے اور اس کے بعد کیا کرنا ہے۔ اس سے مجھے اداکاری پر بھی پوری توجہ دینے میں آسانی ہوئی۔ تاہم اگر شوٹنگ کے دوران کوئی نیا خیال آتا تو اسے شامل کرنے کی مکمل گنجائش موجود رہتی تھی۔

سوال: آپ کی فلم اور ’دائرہ‘ ایک ہی دن ریلیز ہو رہی ہیں۔ ایسے میں باکس آفس پر ہونے والے اس ٹکراو کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟

کنال کھیمو: کرینہ نے میری فلم کے بارے میں جو باتیں کہی ہیں، اس سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میں دل سے ان کا شکر گزار ہوں۔ سچ کہوں تو کوئی بھی پروڈیوسر نہیں چاہتا کہ اس کی فلم کسی دوسری فلم کے ساتھ ایک ہی دن ریلیز ہو، کیونکہ اس کا اثر باکس آفس پر پڑ سکتا ہے۔

تاہم اچھی بات یہ ہے کہ ہماری فلم کو کافی شوز مل رہے ہیں۔ ’دائرہ‘ میں کرینہ اور پرتھوی راج جیسے بہترین فن کار ہیں اور میگھنا گلزار نے اس کی ہدایت کاری کی ہے۔ ہماری دونوں فلموں کا انداز مختلف ہے، اس لیے مجھے لگتا ہے کہ ناظرین دونوں فلموں کو موقع دیں گے۔

آخرکار اچھی فلمیں ناظرین تک پہنچیں اور انہیں پسند آئیں، یہی سب سے اہم بات ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande