ایران کے ساتھ کشیدگی کے درمیان جرمنی میں 8 ممالک کے فوجی سربراہوں کی میٹنگ، سینٹ کام نے کی میزبانی
واشنگٹن، 16 ستمبر (ہ س)۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے گزشتہ ہفتے جرمنی میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران آٹھ ممالک کے اعلیٰ فوجی افسران کی میزبانی کی۔ ایک امریکی عہدیدار نے منگل کو انادولو نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اجلاس کا بنیادی مقصد مشرق وسطیٰ می
CENTCOM-Germany-Iran-tensions-countries-Military-c


واشنگٹن، 16 ستمبر (ہ س)۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے گزشتہ ہفتے جرمنی میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران آٹھ ممالک کے اعلیٰ فوجی افسران کی میزبانی کی۔ ایک امریکی عہدیدار نے منگل کو انادولو نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اجلاس کا بنیادی مقصد مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عہدیدار نے بتایا کہ اجلاس میں علاقائی سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کے ممکنہ طریقوں پر غور کیا گیا۔ تاہم، انہوں نے اجلاس میں شریک ممالک اور زیر بحث آنے والے مخصوص معاملات کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔

ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق، امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے دو اسرائیلی عہدیداروں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اجلاس میں اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، بحرین، کویت، قطر، اردن اور مصر کے فوجی سربراہوں نے شرکت کی۔ تاہم، امریکی عہدیدار نے ان ممالک کی شرکت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی۔

ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق، سینٹ کام کے سربراہ جنرل بریڈ کوپر نے اجلاس میں موجود عہدیداروں کو بتایا کہ ایرانی حملوں کے باوجود امریکی فوج مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی کم نہیں کرے گی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنرل کوپر نے شرکا کو آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت بڑھانے کے امریکی منصوبوں سے آگاہ کیا۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی رسد کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ جون میں دونوں فریقوں کے درمیان ایک معاہدے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی بات سامنے آئی تھی، جس میں اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کا منصوبہ شامل ہونے کا ذکر کیا گیا تھا۔

اسی دوران خطے میں حوثی فورسز کی سرگرمیوں میں بھی اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق سعودی عرب پر حملے تیز ہوئے ہیں، جبکہ باب المندب آبنائے کے حوالے سے بھی سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

فروری میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تھی۔ ان حملوں میں سرکاری عمارتوں، فوجی اڈوں، میزائل تنصیبات اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ اس کے بعد اس تنازع کے اثرات مشرق وسطیٰ کے دیگر علاقوں میں بھی دیکھنے کو ملے۔اس پس منظر میں جرمنی میں سینٹ کام کی یہ میٹنگ علاقائی فوجی تعاون اور سکیورٹی رابطہ کاری کے حوالے سے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم، اجلاس میں شریک تمام ممالک اور اس کے تفصیلی ایجنڈے کی باضابطہ تصدیق ابھی نہیں ہوئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande