روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر امریکہ کا شکنجہ،ہندوستان- چین سمیت کئی ممالک پر 100 فیصد ٹیرف کی تیاری
نئی دہلی/واشنگٹن، 16 ستمبر (ہ س)۔ روس سے خام تیل خریدنے والے ممالک پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکہ میں نئی پابندیوں اور ٹیرف سے متعلق سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ امریکی سینیٹ میں ایک دو طرفہ بل پیش کیا گیا ہے، جس میں روس سے تیل خریدنے والے ممالک سے درآم
AMERICA-TARIFFS-WAR-INDIA-CHINA-Russian-Oil-Buyers


نئی دہلی/واشنگٹن، 16 ستمبر (ہ س)۔ روس سے خام تیل خریدنے والے ممالک پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکہ میں نئی پابندیوں اور ٹیرف سے متعلق سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ امریکی سینیٹ میں ایک دو طرفہ بل پیش کیا گیا ہے، جس میں روس سے تیل خریدنے والے ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیا پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ہندوستان اور چین بطور خاص اس تجویز کے نشانے پر ہیں۔

یہ پہل آنجہانی ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم سے منسلک روس پابندی قانون کے نئے ورژن کا حصہ ہے۔ بل کا وسیع مقصد روس کی توانائی سے حاصل ہونے والی آمدنی اور اس سے وابستہ تجارتی نیٹ ورک پر دباؤ بڑھانا ہے۔ ڈیموکریٹک سینیٹر رچرڈ بلومینتھل کے مطابق، مجوزہ قانون روس کی معیشت کے توانائی، مالیاتی اور دفاعی شعبوں کے ساتھ ساتھ اس کے تجارتی نیٹ ورک اور بااثر کاروباری شخصیات کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

ایوان نمائندگان میں پیش کی گئی ایک ترمیم میں ہندوستان اور چین کے علاوہ ترکیہ، آذربائیجان، ہنگری، سلوواکیہ، متحدہ عرب امارات، سنگاپور، قازقستان اور کرغزستان جیسے ممالک کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ مجوزہ فریم ورک کے تحت اگر یہ ممالک روسی تیل کی خریداری جاری رکھتے ہیں تو ان پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔

حالانکہسینیٹ سے منظور شدہ ورژن میں ان ممالک کے نام براہ راست شامل نہیں کیے گئے ہیں۔ اس میں روسی تیل اور گیس کے حجم کے لحاظ سے پانچ بڑے درآمد کنندگان کو نشانہ بنانے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ ایوان نمائندگان میں پیش کی گئی ترامیم کے بعد قانون کی حتمی شکل تبدیل ہو سکتی ہے۔

مجوزہ قانون میں روس سے گیس خریدنے والے 15 یورپی ممالک کو ممکنہ ٹیرف سے استثنیٰ دینے کی بھی بات کی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ان ممالک کا روسی گیس پر انحصار ان کی مجموعی توانائی کی ضروریات کے مقابلے میں محدود ہے اور وہ ماسکو پر اپنا انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہندوستھان دنیا کے بڑے خام تیل درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور گزشتہ چند برسوں میں روسی تیل اس کے اہم ذرائع میں رہا ہے۔ پٹرولیم پلاننگ اینڈ اینالیسس سیل (پی پی اے سی) کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان نے مئی میں تقریباً 2.15 کروڑ میٹرک ٹن خام تیل درآمد کیا تھا۔ روسی تیل پر امریکی پابندیوں اور اس سے متعلق رعایتی مدت بھی اس معاملے میں اہم ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق روسی تیل سے متعلق امریکی پابندیوں میں ہندوستان کو حاصل رعایت 17 جون 2026 کو ختم ہو گئی تھی۔

روس کے خلاف مجوزہ قانون کے سابقہ ورژن میں روسی تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی بات کی گئی تھی۔ نئے ورژن میں یہ حد کم کرکے 100 فیصد تک کر دی گئی ہے۔مجوزہ قانون کا مقصد صرف ٹیرف عائد کرنا نہیں ہے۔ اس کے ذریعے روسی قیادت، توانائی کے شعبے اور مبینہ ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف پابندیوں کو بھی مزید سخت کرنے کی کوشش ہے۔ امریکی ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ روسی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی ماسکو کی یوکرین میں جنگی صلاحیت برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

سینیٹ نے 7 اگست کو اس قانون کے ایک ورژن کو 86 کے مقابلے میں 11 ووٹوں سے منظور کیا تھا۔ اب ایوان نمائندگان میں اس پر کارروائی آگے بڑھ رہی ہے۔ منگل کو بل نے ایک اہم طریقہ کار سے متعلق مرحلہ بھی عبور کیا، جس میں دو ڈیموکریٹک ارکان نے ریپبلکن ارکان کے ساتھ مل کر اس کے حق میں ووٹ دیا۔

حالانکہ، ایوانِ نمائندگان میں کئی ترامیم بھی پیش کی گئی ہیں۔ ان میں ٹیرف سے متعلق شق کو ختم کرنے کی کوشش بھی شامل ہے۔ اس لیے ابھی یہ طے نہیں ہے کہ حتمی قانون میں 100 فیصد ٹیرف کی شق کس شکل میں برقرار رہے گی۔

ایوان نمائندگان سے منظوری کے بعد ہی بل دستخط کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس بھیجا جا سکے گا۔ اس لیے 100 فیصد ٹیرف کی تجویز فی الحال امریکہ کی حتمی پالیسی نہیں ہے اور اس کے حتمی اثرات ایوان نمائندگان میں ووٹنگ اور بعد کی قانون سازی میں ہونے والی تبدیلیوں پر منحصر ہوں گے۔

اگر 100 فیصد ٹیرف کی شق حتمی قانون میں شامل رہتی ہے اور ہندوستان اس کے دائرے میں آتا ہے تو اس کا اثر ہندوستان سے امریکہ برآمد ہونے والی اشیا پر پڑ سکتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ تاہم، حقیقی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حتمی قانون میں کن ممالک کو شامل کیا جاتا ہے، ٹیرف کن اشیا پر عائد ہوتا ہے اور صدر کو کس نوعیت کی رعایت یا استثنیٰ دینے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande