علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نان ریزیڈنٹ اسٹوڈنٹس سنٹر کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام میں یونیورسٹی کی تہذیب و روایات پر گفتگو
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نان ریزیڈنٹ اسٹوڈنٹس سنٹر کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام میں یونیورسٹی کی تہذیب و روایات پر گفتگو علی گڑھ، 15 ستمبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نان ریزیڈنٹ اسٹوڈنٹس سنٹر (این آر ایس سی) کی جانب سے جے این ایم سی آڈیٹوری
این آر ایس سی


علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نان ریزیڈنٹ اسٹوڈنٹس سنٹر کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام میں یونیورسٹی کی تہذیب و روایات پر گفتگو

علی گڑھ، 15 ستمبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نان ریزیڈنٹ اسٹوڈنٹس سنٹر (این آر ایس سی) کی جانب سے جے این ایم سی آڈیٹوریم میں ’عہدِ رفتہ: یادوں، افکار اور شناخت کا جشن‘ کے عنوان سے ایک خصوصی پروگرام منعقد کیا گیا جس میں یونیورسٹی کی ثقافتی روایات اور منفرد تہذیب کا بھرپور تذکرہ کیا گیا۔ مہمانِ خصوصی، پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے یونیورسٹی کے فکری و سماجی ماحول کی تشکیل میں طلبہ کی جانب سے منعقد کیے جانے والے ثقافتی و ادبی پروگراموں کے کردار کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شناخت اس کی منفرد تہذیب، علمی روایات، باہمی احترام اور اجتماعی جذبے سے مزید مالا مال ہوئی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو ایسے پروگراموں میں فعال طور پر شرکت کرنے اور نسل در نسل منتقل ہونے والی اقدار و روایات کو گہرائی سے سمجھنے کی ترغیب دی۔ مہمانِ اعزازی، ڈائریکٹر، اسکول ایجوکیشن پروفیسر قدسیہ تحسین نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تہذیب، اقدار، روایات، باہمی احترام اور مشترکہ وابستگی کے احساس کا ایک منفرد امتزاج پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام طلبہ کو یونیورسٹی کے ثقافتی ورثے سے دوبارہ جڑنے اور ان اقدار کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں جنہوں نے برسوں کے دوران اس کی شناخت کو تشکیل دیا ہے۔مہمان ذی وقار، شعبہ رابطہ عامہ کی ممبر انچارج پروفیسر وبھا شرما نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تہذیب کو ادارے کا انتہائی عزیز ورثہ قرار دیا، جو باہمی احترام، فکری تبادلے، ثقافتی تنوع اور اجتماعی جذبے کی مضبوط روایات میں نمایاں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’عہد رفتہ‘ نے طلبہ کو اس ورثے سے دوبارہ جڑنے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی منفرد شناخت کی بنیاد میں کارفرما اقدار کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ڈی ایس ڈبلیو پروفیسر ایم اطہر انصاری، شعبہ سیاسیات کے پروفیسر ایم محب الحق اور شعبہ جغرافیہ کے ڈاکٹر احمد ایم صدیقی نے بھی حاضرین سے خطاب کیا۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخی طور پر وابستہ منفرد ثقافتی اقدار، روایات اور طور طریقوں کو یاد کیا اور موجودہ نسل کے طلبہ میں انہیں محفوظ رکھنے اور آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔یہ پروگرام وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کی سرپرستی اور این آر ایس سی کے پرووسٹ پروفیسر سریندر کے مشرا اور این آر ایس سی کلب کے صدر ڈاکٹر ایم اے بلال حسین کی رہنمائی میں منعقد کیا گیا۔ این آر ایس سی کلب نے سنٹر کے وارڈنز کے تعاون سے اس پروگرام کا اہتمام کیا۔ کلب کے سکریٹری احمد صدیقی اورکلچرل سکریٹری ایمن حفیظ خان نے پروگرام کو مربوط کیا۔ لٹریری سکریٹری ضیاء الدین احمد، ہابی سکریٹری عبداللہ فیض الحسن اور ہال میگزین کے مدیر محمد جنید خان بھی آرگنائزنگ ٹیم کا حصہ تھے۔ پرووسٹ دفتر کے مسٹر عنبر زیدی اور مسٹر انکور شریواستو نے پروگرام کے انعقاد میں تعاون کیا۔ پروگرام میں بڑی تعداد میں طلبہ، ریسرچ اسکالرز اور اساتذہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر مہمانوں اور مقررین کی تہنیت و پذیرائی کی گئی۔ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande