این آر سی، ایس آئی آر سے 100 گنا زیادہ برا ہوگا:اسد اویسی
حیدرآباد، 15 ستمبر (ہ س)۔آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بیانات پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) نافذ کرنا ووٹر فہرستوں کی خصوصی گ
این آر سی، ایس آئی آر سے 100 گنا زیادہ برا ہوگا:اسد اویسی


حیدرآباد، 15 ستمبر (ہ س)۔آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بیانات پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) نافذ کرنا ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کی کارروائی سے 100 گنا زیادہ برا ہوگا۔

اے آئی ایم آئی ایم کے صدراور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اویسی نے سوشل میڈیا پر کہاکہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا’بے جا تکبر‘اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کی ’کرونولوجی‘ ہی 2019 میں سی اے اے/این آر سی مخالف تحریک کا سبب بنی تھی۔ انہوں نے پیر کو شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی)، خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کی کارروائی اور مجوزہ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے معاملے پر بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے یاد دلایاکہ اس وقت وزیراعظم نریندر مودی نے کہاتھا کہ این آر سی نافذ نہیں کیا جائے گا۔ اویسی نے کہا کہ جاری ایس آئی آر کی کارروائی سے عام لوگوں، خصوصاً اقلیتوں، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور تارکین وطن کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے، جنہیں دستاویزات کے ساتھ سماعت کے لیے پیش ہونا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ این آر سی ’’100 گنا زیادہ برا‘‘ ہوگا اور اس سلسلے میں آسام کے تجربے کاحوالہ دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ فلاحی اسکیموں پرانحصار کرنے والے لوگوں سے اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے دستاویزات پیش کرنے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایسی کارروائی شہریوں کو سرکاری حکام کی مرضی اور رحم و کرم پر چھوڑ دے گی۔

اویسی نے کہا کہ بی جے پی کے حلیفوں کو چھوٹی بی جے پی کی طرح کام کرنے کے بجائے اپنی آزاد سیاسی آواز کا اظہار کرنا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایاکہ ’یو سی سی مساوات کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے بارے میں ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande