چھ فٹ سات انچ قد، انکن داس کے لیے بنا پریشانی کا سبب
نادیہ، 15 ستمبر(ہ س )۔ لمبا قد عام طور پر کشش کا باعث سمجھا جاتا ہے، لیکن مغربی بنگال کے نادیا ضلع کے تیہٹہ علاقے کے رہنے والے طالب علم انکن داس کے لیے یہی قد کئی مشکلات کی وجہ بن گیا ہے۔ ان کا قد تقریباً چھ فٹ سات انچ ہے۔ دبلے پتلے جسم والے انک
چھ فٹ سات انچ قد، انکن داس کے لیے بنا پریشانی کا سبب


نادیہ، 15 ستمبر(ہ س )۔

لمبا قد عام طور پر کشش کا باعث سمجھا جاتا ہے، لیکن مغربی بنگال کے نادیا ضلع کے تیہٹہ علاقے کے رہنے والے طالب علم انکن داس کے لیے یہی قد کئی مشکلات کی وجہ بن گیا ہے۔ ان کا قد تقریباً چھ فٹ سات انچ ہے۔

دبلے پتلے جسم والے انکن کے لیے بازار، دکان یا شاپنگ مال میں اپنے ناپ کے کپڑے ملنا انتہائی مشکل ہے۔ خاص طور پر درگا پوجا کے موقع پر نئے کپڑے خریدنا ان کے خاندان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔

انکن کے مطابق عام ریڈی میڈ کپڑے ان کے ناپ کے نہیں ملتے۔ اس لیے انہیں دوسرے صوبوں سے کپڑے منگوانے پڑتے ہیں یا درزی سے خصوصی طور پر کپڑے تیار کروانے پڑتے ہیں۔ بعض اوقات زیادہ کپڑا درکار ہونے کی وجہ سے پینٹ اور شرٹ کے لیے معمول سے زیادہ کپڑا خریدنا پڑتا ہے۔

لمبے قد کی وجہ سے روزمرہ زندگی میں بھی انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گھر کے دروازے سے گزرتے وقت انہیں اکثر سر جھکانا پڑتا ہے۔ عام سائز کا بستر بھی ان کے لیے چھوٹا پڑ جاتا ہے، اس لیے بستر کے آگے ایک الگ بینچ لگائی گئی ہے۔

سفر کے دوران بس، ٹرین، ہوائی جہاز حتیٰ کہ ٹوٹو میں بیٹھنا بھی ان کے لیے آسان نہیں۔ جگہ کم ہونے کی وجہ سے انہیں دشواری ہوتی ہے۔ اسی لیے مقامی آمدورفت کے لیے موٹر سائیکل ان کے لیے زیادہ سہولت بخش ذریعہ بن گئی ہے۔

ان کے غیر معمولی قد کو دیکھ کر بعض لوگ حیرت سے دیکھتے ہیں اور کچھ مذاق بھی کرتے ہیں۔ گھر والوں کو یہ خدشہ بھی رہتا ہے کہ کہیں چلتے ہوئے پنکھا ان کے سر سے نہ ٹکرا جائے، اس لیے وہ انہیں محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہیں۔

تاہم انکن اور ان کے خاندان کے مطابق ان کا قد کسی جسمانی تکلیف کا سبب نہیں ہے۔ خاندان کو اپنے بیٹے کے لمبے قد پر فخر بھی ہے۔ انکن کا کہنا ہے کہ اضافی قد کی وجہ سے سہولتوں کے مقابلے میں مشکلات زیادہ ہیں، لیکن یہ قدرت کی عطا ہے، اس لیے اسے قبول کرکے آگے بڑھنا ہوگا۔

ان کے قد کا ایک دلچسپ فائدہ بھی ہے: وہ گھر کے درختوں پر لگے آم اور جامن بغیر زیادہ محنت کے ہاتھ بڑھا کر توڑ لیتے ہیں۔

انکن کی والدہ تِتھی داس کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں شاید ہی کوئی شخص اتنا لمبا ہو۔ بیٹے کے قد پر فخر کے باوجود گزشتہ چند برسوں سے اس کے ناپ کے کپڑے تلاش کرنا ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے، خاص طور پر پوجا کے موقع پر۔ تاہم ایک مقامی کپڑا تاجر کی مدد سے امید پیدا ہوئی ہے کہ انکن کے لیے باہر سے پینٹ اور دیگر کپڑے منگوائے جا سکیں گے۔

درمیانے طبقے کے خاندان کے لیے ہر بار خصوصی ناپ کے کپڑے بنوانا مالی اور عملی دونوں اعتبار سے مشکل ہے۔ درگا پوجا قریب ہے اور خاندان نئے کپڑوں کی تیاری میں مصروف ہے، لیکن انکن اس بار کیا پہنیں گے، یہ ابھی طے نہیں ہو سکا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande