
نئی دہلی ،15ستمبر (ہ س )۔
نڈیا عرب کلچرل سینٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے مورخہ دس ستمبر دوہزار چھبیس کو دوپہر ڈھائی بجے اپنے کانفرنس ہال میں ”مصر: معاشرہ اور ثقافت میری نظر میں“ کے موضوع پر ایک خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا۔ یہ لیکچر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کے ایسوسی ایٹ ڈاکٹر خالد رضا اورپروفیسر اور عین شمس یونیورسٹی، قاہرہ میں آئی سی سی آر چیئر وزیٹنگ پروفیسر (دوہزار سترہ۔اٹھارہ) نے دیا۔، تقریب کی صدارت نئی دہلی میں مصر کے سفارت خانے کے تعلیمی و ثقافتی بیورو کی سربرا ہ ڈاکٹر آیت سعد احمد نے کی، جب کہ مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد آفتاب احمد نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔
مقرر اور مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈاکٹر آفتاب احمد نے موضوع کا تعارف پیش کیا اور مصر کو نہ صرف قدیم یادگاروں اور تاریخی خزانوں کی سرزمین کے طور پر بلکہ ایک متحرک جدید معاشرے کے حامل ملک کے طور پر بھی اجاگر کیا۔ انھوں نے بتایا کہ مصر اپنے اہراموں، مندروں، مقبروں، فلموں، رقص اور دریائے نیل کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اجلاس کے مقرر کی حیثیت سے ڈاکٹر خالد رضا نے مصری طلبہ کو پڑھانے، مقامی لوگوں کے ساتھ میل جول (جیسے بازاروں اور ہوٹلوں میں)، وہاں کے انداز خورد ونوش اور پکوانوں کے تجربے، نیز تاریخی مقامات، بندرگاہوں اور سماجی تقریبات میں شرکت کے اپنے تجربات بیان کیے۔ مقرر نے اس بات پر زور دیا کہ ثقافت کو محض مطالعے کے بجائے عملی تجربے کے ذریعے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ مصری ثقافت میں خاندان اہم کردار ادا کرتا ہے اور وہاں بزرگوں کے احترام اور مضبوط خاندانی تعلقات کو کافی اہمیت دی جاتی ہے۔ مقرر نے مصری عوام کی گرم جوشی اور مہمان نوازی کا رتذکرہ ہوئے روایتی کھانوں جیسے کوشاری، فول مدامس اور مختلف اقسام کی روٹیوں اور میٹھے پکوانوں کا بھی ذکر کیا جو مصر کی منفرد غذائی ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔
تقریب کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر آیت سعد احمد نے اس بات پر زور دیا کہ مصر کو محض اہرام اور فراعنہ کی سرزمین کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ ایک زندہ معاشرہ ہے جس کی ثقافت ہزاروں سال کی تاریخ کے دوران پروان چڑھی ہے اور آج بھی ارتقا کے عمل سے گزر رہی ہے۔ انھوں نے طلبہ سے کہا کہ وہ ثقافتی تنوع کی قدر کریں اور براہِ راست مشاہدے اور تجربے کے ذریعے دیگر معاشروں کو سمجھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ سماجی میل جول، تقریبات اور اجتماعات اکثر کمیونٹی اور باہمی وابستگی کے مضبوط احساس کی عکاسی کرتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ مصر کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے تعلیم، ادب، سنیما، موسیقی اور فنونِ لطیفہ جیسے شعبوں میں باہمی تعاون کیا ہے۔ بھارتی فلموں اور موسیقی کو مصری شائقین میں مقبولیت حاصل رہی ہے، جب کہ مصری ادب، تاریخ اور سنیما نے بھارت میں لوگوں کی دلچسپی کو اپنی جانب راغب کیا ہے۔ ثقافتی میلوں اور تعلیمی تبادلوں نے دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کی روایات سے آگاہی حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔
لیکچر میں یونیورسٹی کے مختلف شعبوں اور مراکز کے اساتذہ اور اسکالرس نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais