اے ایم یو کی مختلف اکائیوں کی جانب سے ثقافتی، ادبی اور تخلیقی سرگرمیوں کے ساتھ یومِ ہندی منایا گیا
اے ایم یو کی مختلف اکائیوں کی جانب سے ثقافتی، ادبی اور تخلیقی سرگرمیوں کے ساتھ یومِ ہندی منایا گیا علی گڑھ، 15 ستمبر (ہ س)۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مختلف اکائیوں کی جانب سے ثقافتی، ادبی اور تخلیقی سرگرمیوں کے ساتھ 14 ستمبر کو یومِ ہندی منایا گیا،
ہندی دیوس


اے ایم یو کی مختلف اکائیوں کی جانب سے ثقافتی، ادبی اور تخلیقی سرگرمیوں کے ساتھ یومِ ہندی منایا گیا

علی گڑھ، 15 ستمبر (ہ س)۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مختلف اکائیوں کی جانب سے ثقافتی، ادبی اور تخلیقی سرگرمیوں کے ساتھ 14 ستمبر کو یومِ ہندی منایا گیا، جن میں ہندی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا اور لسانی تنوع کے احترام کی ضرورت پر بھی زور دیا گیاْ ساتھ ہی تعلیم، کام کاج اور عوامی زندگی میں ہندی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی ترغیب دی گئی۔

بیگم عزیزالنسا ہال میں ہال کی پرووسٹ پروفیسر آسیہ سلطانہ کی رہنمائی میں انٹر ہال مقابلوں کا انعقاد کیا گیاجن میں فی البدیہہ تقریر، اشتہار میں اداکاری اور مختصر ڈراما شامل تھے۔ اس موقع پر پروفیسر آسیہ سلطانہ نے ثقافت، حساسیت اور اظہار کے وسیلے کے طور پر ہندی کی اہمیت کو اجاگر کیا اور طالبات کو زبان میں مزید دلچسپی پیدا کرنے اور اپنے تخلیقی اظہار میں اس کے وسیع تر استعمال کی ترغیب دی۔فی البدیہہ تقریر کے مقابلے میں فرحانہ نے پہلا انعام اور شائستہ رحمان اور ام سلمیٰ نے بالترتیب دوم و سوم انعام حاصل کیا۔ شگفتہ اور الپنا کو حوصلہ افزائی انعامات دیے گئے۔ اشتہار میں اداکاری کے مقابلے میں شائستہ رحمان نے اوّل، الپنا نے دوم اور فاریہ شکیل نے سوم انعام حاصل کیا، جبکہ اریبہ عقیل کو حوصلہ افزائی انعام دیا گیا۔ مختصر ڈرامے کے مقابلے میں ٹیم اکشر دھارا نے ”میں ہندی ہوں: ایک لکھاری کے قلم کی جدوجہد“ پیش کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ ٹیم شائستہ رحمان نے ”بارات والوں کا استقبال کون کرے گا؟ پیش کرکے دوم انعام“ اور ٹیم الپنا نے ”منتر کہانی“ پیش کرکے سوم انعام حاصل کیا۔ مقابلوں کی جیوری میں ایڈوانسڈ سینٹر فار ویمنس اسٹڈیز اور اسسٹنٹ ڈی ایس ڈبلیو ڈاکٹر جوہی گپتا اور ویمنس کالج کی ڈاکٹر شگفتہ نیاز شامل تھیں۔ ہال کی وارڈن ڈاکٹر افسانہ، ڈاکٹر مجاہد، ڈاکٹر مشیر، ڈاکٹر ارم اور ڈاکٹر یاسمین بھی پروگرام میں موجود تھے۔ ڈاکٹر جیوتی کسمبل نے اظہارِ تشکر کیا۔ پی ایچ ڈی اسکالرز آسیہ امرین، شائستہ رحمان اور سلمیٰ نے پروگرام کے انعقاد میں تعاون کیا۔نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) دفتر میں یومِ ہندی کے موقع پر ایک سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں طلبہ، اساتذہ اور مہمانوں نے ہندی کی عصری معنویت پر تبادلہ خیال کیا۔ پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے شعبہ تعلیم کی پروفیسر نسرین نے کہا کہ ہندی کو اپنی مادری زبان کی طرح محبت اور احترام دینا چاہیے، تاہم ہندی کے احترام کے ساتھ دیگر زبانوں کا احترام بھی لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ زبان دلوں کو جوڑتی ہے اور معاشروں اور ثقافتوں کے درمیان باہمی تفہیم کو فروغ دیتی ہے۔ انہوں نے تعلیم کے ساتھ ہندی کو روزگار، ٹکنالوجی اور ابھرتے ہوئے مواقع سے جوڑنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔مہمانِ خصوصی، راجہ مہندر پرتاپ سنگھ اے ایم یو سٹی اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر محمد فیاض الدین نے کہا کہ یومِ ہندی محض ایک دن زبان کو یاد کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس کی حقیقی اہمیت روزمرہ کی زندگی، تعلیم اور کام کاج میں ہندی کو اپنانے میں مضمر ہے۔ این ایس ایس کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد محسن خان نے مہمانوں کا گلدستے اور شال پیش کرکے خیرمقدم کیا۔ پروگرام آفیسر ڈاکٹر ناہید اکبری نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ یومِ ہندی کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر مہمانوں نے مشترکہ طور پر امرود کا پودا لگایا، جس کے ذریعے جشن کو ماحولیاتی تحفظ کے پیغام سے بھی جوڑا گیا۔ محمد نعیم، محمد عمران خان، ڈاکٹر آفتاب احمد انصاری سمیت این ایس ایس رضاکار کثیر تعداد میں پروگرام میں شریک ہوئے۔

ہندوستھان سماچار

--------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande