
ممبئی ، 15 ستمبر (ہ س)۔ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے منگل کو ممبئی میں کہا کہ مراٹھا ریزرویشن کے معاملے پر ریاستی حکومت کا رویہ مثبت ہے۔ حکومت اس معاملے پر مسلسل بات چیت کررہی ہے اور مراٹھا برادری کے نقطہ نظر سے اس مسئلے کو سمجھنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی قیادت میں مراٹھا برادری کو انصاف دلانا حکومت کی ترجیحات میں شامل رہا ہے۔ایکناتھ شندے نے کہا کہ مراٹھا ریزرویشن کا معاملہ کئی برسوں سے زیر التوا ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں، لیکن اس مسئلے پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے مراٹھا برادری کو ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن حکومت تبدیل ہونے کے بعد یہ ریزرویشن برقرار نہیں رہ سکا۔شندے نے بتایا کہ اس سے پہلے مراٹھا برادری کو 14 فیصد ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جسے بعد میں عدالت نے 12 اور 13 فیصد تک مقرر کیا۔ اس کے بعد حکومت تبدیل ہوئی تو یہ ریزرویشن بھی برقرار نہیں رہ سکا۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ وزیر اعلیٰ بنے تو مراٹھا برادری کو 10 فیصد ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا گیا اور اس مقصد کے لیے خصوصی اسمبلی اجلاس بھی طلب کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق آج مراٹھا برادری کے طلبہ اور نوجوان 10 فیصد ریزرویشن کا فائدہ اٹھارہے ہیں۔ایکناتھ شندے نے کہا کہ انا صاحب پاٹل اقتصادی ترقی کارپوریشن کے تحت بغیر سود کے دیے جانے والے قرض کی حد 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سارتھی ادارے، ہاسٹل کی سہولت اور دیگر کئی اسکیموں کے ذریعے مراٹھا برادری کے نوجوانوں اور طلبہ کو مدد فراہم کرنے کے فیصلے بھی کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن افراد کے پاس کُنبی سے متعلق ریکارڈ دستیاب ہیں، انہیں کُنبی سرٹیفکیٹ دینے کا فیصلہ بھی حکومت نے کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے جسٹس شندے کمیٹی تشکیل دی گئی اور جنگی پیمانے پر کام کرتے ہوئے بڑی تعداد میں لوگوں کو کُنبی سرٹیفکیٹ دیے گئے ہیں۔شندے نے کہا کہ حکومت مراٹھا برادری کے مسائل حل کرنے کے لیے آئندہ بھی بات چیت اور کوششیں جاری رکھے گی۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بنایا جائے گا کہ ریزرویشن یا دیگر فیصلوں کے باعث کسی دوسری برادری کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے