
جموں, 15 ستمبر (ہ س): بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سنیل شرما نے الزام لگایا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ دراصل پولیس پر دوبارہ اختیار حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ پولیس پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت میں جموں و کشمیر کے لوگ پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت اپنی مکمل مدت پوری نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق حکمران جماعت کے اندر اختلافات پیدا ہونا شروع ہو گئے ہیں اور مستقبل میں جماعت میں پھوٹ پڑنے کے ساتھ حکومت بھی گر سکتی ہے۔
سنیل شرما کا یہ بیان عمر عبداللہ کے ان حالیہ ریمارکس کے بعد سامنے آیا ہے جن میں وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ وہ جموں و کشمیر سے متعلق مختلف معاملات پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ان معاملات میں ریاستی حیثیت کی بحالی اور کاروباری قواعد بھی شامل ہیں۔
عمر عبداللہ نے ایڈوکیٹ جنرل کی تقرری اور ریزرویشن سے متعلق معاملے کو بھی زیر التوا مسائل میں شمار کیا تھا۔ ان کے مطابق ایڈوکیٹ جنرل کی تقرری تقریباً دو برس سے زیر التوا ہے، جبکہ ریزرویشن کے معاملے پر جموں و کشمیر کابینہ کا جواب ابھی حکومت ہند کو بھیجا جانا باقی ہے۔
ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ ایک بار پھر جموں و کشمیر میں سیاسی بحث کا مرکزی موضوع بن گیا ہے، جہاں نیشنل کانفرنس اس مطالبے پر زور دے رہی ہے جبکہ بی جے پی اس کے سیاسی مقاصد پر سوال اٹھا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر