
نئی دہلی، 15 ستمبر (ہ س)۔ دہلی کے سینٹرل ضلع سائبر تھانے کی پولیس نے شادی کے خواہش مند مردوں کو فرضی رشتوں کے جال میں پھنسا کر دھوکا دہی کرنے والے ایک بڑے بین ریاستی گروہ کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس گروہ کا سرغنہ آگرہ کا رہنے والا 29 سالہ وکیل امت کمار ہے۔
ملزم نے اپنی قانونی معلومات کا استعمال کرتے ہوئے فرضی میٹری مونیل پورٹل’شادی پارٹنر ڈاٹ کام‘ کے ذریعے دھوکا دہی کا منظم نیٹ ورک قائم کیا تھا۔ پولیس نے سرغنہ سمیت مجموعی طور پر 9 افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں کال سینٹر کی ایک خاتون منیجر اور 7 خواتین ٹیلی کالر شامل ہیں۔
تفتیش میں سامنے آیا کہ یہ گروہ شادی کے لیے رشتہ تلاش کرنے والے مردوں کے موبائل نمبر اپنی ویب سائٹ اور فیس بک و انسٹاگرام کے میٹری مونیل صفحات اور گروپس سے حاصل کرتا تھا۔ اس کے بعد ٹیلی کالر لڑکیاں انٹرنیٹ سے نامعلوم خواتین کی پرکشش تصاویر حاصل کرکے انہیں ممکنہ دلہن کے طور پر متاثرین کو بھیجتی تھیں۔ اعتماد حاصل کرنے کے لیے ٹیلی کالر خود لڑکی بن کر فون پر بات کرتی تھیں۔
رجسٹریشن، پروفائل ایکٹیویشن اور فون نمبر فراہم کرنے کے نام پر متاثرین سے 2,500 سے 15 ہزار روپے تک کے پیکیج وصول کیے جاتے تھے۔ رقم ملنے کے چند روز بعد ’مانگلک دوش‘، خاندانی اختلاف یا منگنی طے ہونے کا جھوٹا بہانہ بنا کر بات چیت بند کر دی جاتی تھی۔
ملزم وکیل نے قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے ایک سخت اصول بنا رکھا تھا کہ کسی بھی متاثرہ شخص سے 15 ہزار روپے سے زیادہ رقم وصول نہیں کی جائے گی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ متاثرہ شخص اسے دھوکا دہی کے بجائے صرف خراب میٹری مونیل سروس سمجھے اور پولیس میں باضابطہ شکایت درج نہ کرائے۔
اگر کوئی متاثرہ شخص شکایت کرنے کی دھمکی دیتا تو اسے فوری طور پر رقم واپس کر دی جاتی تھی۔ دوسری جانب سائبر پورٹل پر بینک اکاؤنٹ منجمد ہونے کی صورت میں امت خود وکیل کی حیثیت سے پیش ہوکر معاملے کو قانونی ’سروس ڈسپیوٹ‘ قرار دیتے ہوئے اکاؤنٹ دوبارہ فعال کرانے کی کوشش کرتا تھا۔
تفتیش سے بچنے کے لیے امت نے کال سینٹر کی 44 سالہ خاتون منیجر کے نام پر’ایم ایس شادی پارٹنر کام‘ کے نام سے پروپرائٹرشپ فرم، بینک اکاؤنٹس اور سم کارڈ حاصل کر رکھے تھے، جبکہ وہ خود کو صرف قانونی مشیر ظاہر کرتا تھا۔
شکایت موصول ہونے کے بعد دہلی پولیس نے آگرہ کے سکندرا واقع راماجی دھام اپارٹمنٹ میں چل رہے فرضی کال سینٹر پر چھاپہ مارا۔ موقع سے خاتون اسٹاف کو حراست میں لیا گیا۔ اس کے بعد مرکزی ملزم امت کمار کو 8 ستمبر کو آگرہ کے کالاکنج علاقے سے اس کی ہنڈائی کریٹا کار سمیت گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس نے ملزمان کے قبضے سے ایک ہنڈائی کریٹا کار، 50 ہزار روپے نقد، 7 ڈیسک ٹاپ سی پی یو اور 47 موبائل فون برآمد کیے ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل پر اس گروہ سے متعلق کئی ریاستوں کے معاملات سامنے آئے ہیں۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اس گروہ نے ملک بھر میں ہزاروں افراد کو اپنا شکار بنایا ہے۔ معاملے کی تفصیلی مالی اور ڈیجیٹل تفتیش جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد