
علی گڑھ, 15 ستمبر (ہ س)۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ٹیچنگ اسٹاف کلب میں منگل کے روز’’جنگِ آزادی سے جمہوریہ تک: ہندوستان کی جمہوری اور سیکولر وراثت میں مسلمانوں کا کردار‘‘ کے موضوع پر ایک سمپوزیم کا انعقاد کیاگیا۔ جس میں آزادی کی جدوجہد سے لے کر جمہوری اور سیکولر ہندوستان کی تعمیر تک مسلمانوں کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ پروگرام میں مؤرخین، صحافیوں، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔معروف صحافی راگھویندر دوبے نے خوشونت سنگھ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے لکھا ہے کہ ہندوستان کی آزادی مسلمانوں کے خون سے لکھی گئی ہے یہی تحریک آزادی میں مسلمانوں کے کردار کو اجاگر کرنے کے لئے کافی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آر ایس ایس اور سنگھ ملک میں باہمی ہم آہنگی اور قومی تعمیر کے عمل کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں اس کے خلاف نظریاتی جدوجہد کی ضرورت ہے اور اسے انہوں نے ’’دوسری آزادی کی لڑائی‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کسی ایک برادری کی جدوجہد کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ مختلف برادریوں، نظریات اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی مشترکہ جدوجہد اور قربانیوں کا نتیجہ تھی۔
انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد، اشفاق اللہ خاں، خان عبدالغفار خاں، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی اور حسرت موہانی سمیت متعدد مجاہدینِ آزادی کی خدمات کا ذکر کیا۔ انہوں نے 1857 کی بغاوت میں بیگم حضرت محل، مولوی احمد اللہ شاہ، بہادر شاہ ظفر اور بخت خاں کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔
راگھویندر دوبے نے کہا کہ تحریکِ آزادی میں مسلم رہنماؤں کی خدمات صرف سیاسی جدوجہد تک محدود نہیں تھیں، بلکہ تعلیم، صحافت، سماجی اصلاح، قومی اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ میں بھی ان کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے موجودہ دور میں باہمی ہم آہنگی اور قومی تعمیر کے عمل کو مضبوط بنانے کے لیے نظریاتی جدوجہد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
لکھنؤ یونیورسٹی کی ڈاکٹر منداکنی رائے نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ تاریخ کو تبدیل کرکے یا اس کے کسی حصے کو حذف کرکے معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انہوں نے سی بی ایس ای کے نصاب سے مغلیہ تاریخ کو ہٹائے جانے جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ غلطیوں سے سبق حاصل کرنے اور مستقبل کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہے۔
ڈاکٹر رائے نے تاریخ پڑھانے والے اساتذہ اور مؤرخین سے اپیل کی کہ وہ کسی طبقہ کو برتر یا کمتر ثابت کرنے کے بجائے واقعات کو ان کے حقیقی پس منظر میں پیش کریں۔ ان کے مطابق تاریخ پر غیر جانب دارانہ اور کھلی بحث ہی معاشرے کو صحیح سمت دے سکتی ہے۔
انھوں نے تحریکِ آزادی میں خواتین اور علاقائی قیادت کے کردار پر روشنی ڈالی اور بالخصوص بیگم حضرت محل کی بہادری اور قیادت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ میں کسی بھی برادری کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ تاریخ کو تبدیل کرکے یا اس کے کسی حصے کو حذف کرکے معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔
معروف صحافی طارق حسن نے تحریکِ آزادی کی وسیع اور ہمہ گیر نوعیت پر روشنی ڈالتے ہوئے پنڈت جواہر لال نہرو اور راجا مہندر پرتاپ کی خدمات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف نظریات اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کی مشترکہ کوششوں نے آزادی کی تحریک کو مضبوط بنایا۔
انہوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کے قومی تحریک میں کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نہرو نے نوجوانوں میں قومی شعور پیدا کرنے، جدید اور جمہوری ہندوستان کے تصور کو آگے بڑھانے اور آزادی کی تحریک کو وسیع بنیاد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
پروفیسر دویش دوبے نے ہندوستان کی کثرت پر مبنی اور مشترکہ تہذیبی وراثت کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف برادریوں کے کردار کو سمجھنے سے جمہوری اقدار، سماجی ہم آہنگی اور قومی اتحاد کو تقویت ملتی ہے۔مسلم یونیورسٹی طلبا یونین کے سابق صدر خالد مسعود نے پروگرام کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں سے نوجوان نسل کو اپنی تاریخ معلوم چلتی ہے منتظمین نے بہت اچھی کوشش کی ہے اسکی جتنی ستائش کی جائے کم ہے ،انھوں نے کہاکہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس طرح کے پروگرام منعقد کریں اور جو پروپگنڈہ چلایا جارہا ہے نفرت کا تفریق پیدا کرنے کا اسکو اسی طرح ختم کیا جاسکتا ہے ۔
صدارت کرتے ہوئے معروف ادیب وصحافی ڈاکٹر راحت ابرار نے سر سید احمد خاں کی تعلیمی اور فکری خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سر سید نے جدید تعلیم، سائنسی نقطۂ نظر اور عقلی طرزِ فکر کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج، جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بنا، سر سید کی دور اندیش تعلیمی سوچ کی ایک اہم مثال ہے۔
ڈاکٹر راحت ابرار نے کہا کہ سر سید کی میراث صرف ایک تعلیمی ادارے تک محدود نہیں ہے، بلکہ علم، عقل، تعلیم اور سماجی اصلاح کے ذریعے معاشرے کو آگے بڑھانے کا ان کا نظریہ آج بھی اہمیت رکھتا ہے۔
پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر محمد ارشد باری نے کہا کہ سیمینار کا مقصد تحریکِ آزادی میں مسلمانوں سمیت مختلف طبقات کے کردار کو سامنے لانا اور نئی نسل کو ملک کی مشترکہ تاریخ سے واقف کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علی گڑھ، سر سید احمد خاں اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ملک کی تعمیر میں خدمات سے نوجوان نسل کو واقف کرانا ضروری ہے۔
سیمینار میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مجاہدینِ آزادی کی خدمات کو یاد کرنا محض تاریخ کا تذکرہ نہیں بلکہ نئی نسل کو جمہوریت، سیکولرازم، آئینی اقدار، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے تئیں حساس بنانے کا ذریعہ بھی ہے۔ پروگرام کے کوآرڈینیٹر پروفیسر عبید اے صدیقی رہے۔ اس موقع پرپروفیسر فضل الرحمن، ڈاکٹر مراد، ڈاکٹر محمد انس، ڈاکٹر محمد محسن، ڈاکٹر شمشاد، ڈاکٹر سدھارت،تصور جمال ،ایم جمال خاں سمیت بڑی تعداد میں اساتذہ و طلبا وطالبات موجود رہے ۔۔۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ