
دہرادون، 14 ستمبر(ہ س )۔
اتراکھنڈ میں مدارس کی منظوری اور ان کے انتظام سے متعلق نیا نظام نافذ ہونے کے بعد پہلے سے رجسٹرڈ 452 مدارس میں سے 179 بند ہوچکے ہیں، جبکہ 19 کو سیل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب 134 مدارس نے محکمہ تعلیم سے منظوری کے لیے درخواست دی ہے، جبکہ 30 مدارس کو منظوری مل چکی ہے۔
ریاستی اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کے مطابق اب تک 35 اقلیتی تعلیمی اداروں کو منظوری دی گئی ہے، جن میں 33 مدارس اور دو دیگر اقلیتی تعلیمی ادارے شامل ہیں۔
ریاستی اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کی 9 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق پہلے سے رجسٹرڈ مدارس میں سے 134 نے محکمہ تعلیم سے منظوری کے لیے درخواست دی ہے، جبکہ 54 مدارس نے ابھی تک درخواست نہیں دی۔ بڑی تعداد میں مدارس کی منظوری کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔
ضلع وار صورتِ حال
ہریدوار: یہاں پہلے 270 مدارس رجسٹرڈ تھے۔ ان میں سے 21 کو محکمہ تعلیم سے منظوری مل چکی ہے، جبکہ 76 نے منظوری کے لیے درخواست دی ہے۔ 43 مدارس نے ابھی درخواست نہیں دی۔ رپورٹ کے مطابق ہریدوار میں 102 مدارس بند ہوچکے ہیں اور 4 کو سیل کیا گیا ہے۔ ریاستی اقلیتی تعلیمی اتھارٹی نے ہریدوار میں مجموعی طور پر 26 اداروں کو منظوری دی ہے، جن میں 24 مدارس اور دو دیگر اقلیتی تعلیمی ادارے شامل ہیں۔
ادھم سنگھ نگر: ضلع میں پہلے 119 مدارس رجسٹرڈ تھے۔ ان میں سے 4 کو محکمہ تعلیم سے منظوری مل چکی ہے اور 48 نے منظوری کے لیے درخواست دی ہے۔ ضلع میں 55 مدارس بند ہوچکے ہیں، جبکہ 10 کو سیل کیا گیا ہے۔
دہرادون: یہاں پہلے 41 مدارس رجسٹرڈ تھے۔ ان میں سے 3 کو محکمہ تعلیم سے منظوری مل چکی ہے، جبکہ 8 نے منظوری کے لیے درخواست دی ہے۔ ضلع میں 12 مدارس بند اور ایک سیل کیا گیا ہے۔ اتھارٹی کی جانب سے دہرادون کے 7 مدارس کو منظوری دی گئی ہے۔
نینی تال: یہاں پہلے 18 مدارس رجسٹرڈ تھے۔ ان میں سے 2 کو محکمہ تعلیم سے منظوری ملی ہے اور 2 نے منظوری کے لیے درخواست دی ہے۔ ضلع میں 10 مدارس بند اور 4 سیل کیے گئے ہیں۔
الموڑہ، چمپاوت اور پتھورا گڑھ: ان اضلاع میں پہلے سے رجسٹرڈ مدارس کی تعداد بالترتیب ایک، دو اور ایک ہے۔ تاہم ان اضلاع سے اتھارٹی کی جانب سے منظور شدہ اداروں کی تعداد صفر بتائی گئی ہے۔
نیا تعلیمی نظام کیا ہے؟
اتراکھنڈ اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کے چیئرمین پروفیسر سریجیت سنگھ گاندھی نے بتایا کہ اتراکھنڈ اقلیتی تعلیمی ایکٹ 2025 کے تحت ریاستی اقلیتی تعلیمی اتھارٹی قائم کی گئی ہے۔ 4 جون 2026 کو اقلیتی تعلیمی اداروں کی منظوری سے متعلق قواعد و ضوابط 2026 نافذ کیے گئے۔
نئے سسٹم کے تحت اتراکھنڈ کے اقلیتی تعلیمی اداروں میں جدید تعلیم لازمی جبکہ مذہبی تعلیم اختیاری ہوگی۔ پہلی سے بارہویں جماعت تک مقررہ نصاب نافذ کیا جائے گا، جبکہ مذہبی تعلیم اسکول کے اوقات ختم ہونے کے بعد دی جائے گی۔
پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے اسکولوں کو ضلعی تعلیمی افسر سے، جبکہ نویں سے بارہویں جماعت تک کے اسکولوں کو اتراکھنڈ اسکول ایجوکیشن کونسل سے منظوری حاصل کرنا ہوگی۔ قواعد کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے گی۔
اتھارٹی کے مطابق نئے نظام کا مقصد طلبہ کو روزگار سے متعلق اور جدید تعلیم سے جوڑنا ہے۔ نیا سسٹم نافذ ہونے کے بعد بعض اداروں نے مختلف وجوہات کی بنا پر کام بند کردیا، جبکہ کچھ اداروں کے خلاف انتظامی کارروائی بھی کی گئی ہے۔ دوسری جانب بڑی تعداد میں اداروں کی منظوری کا عمل ابھی جاری ہے اور ان کے معاملات کی متعلقہ سطح پر جانچ کی جا رہی ہے۔
اتھارٹی کے مطابق مدارس سمیت تمام اقلیتی تعلیمی اداروں کی منظوری کا عمل مقررہ قواعد کے مطابق آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ نئے قواعد کے نفاذ کے بعد جہاں متعدد ادارے بند یا سیل کیے گئے ہیں، وہیں سیکڑوں اداروں کی منظوری کا عمل اب بھی جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ