دیہی ہندوستان کے نئے اقتصادی انقلاب کا نیا محرک بنا ایس وی ای پی
4.32- لاکھ دیہی کاروباری اداروں کوملا سہارا 86- فیصد مستفیدین میں ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور اقلیتی برادری شامل نئی دہلی، 14 ستمبر (ہ س)۔ ایک طویل عرصے تک ہندوستان میں اقتصادی ترقی کا سب سے بڑا بحران یہ تھا کہ معاشرے کے پسماندہ طبقات کے پاس صل
محرک


4.32- لاکھ دیہی کاروباری اداروں کوملا سہارا

86- فیصد مستفیدین میں ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور اقلیتی برادری شامل

نئی دہلی، 14 ستمبر (ہ س)۔ ایک طویل عرصے تک ہندوستان میں اقتصادی ترقی کا سب سے بڑا بحران یہ تھا کہ معاشرے کے پسماندہ طبقات کے پاس صلاحیت کے باوجود سرمایہ، تربیت اور مواقع کی عدم موجودگی میں وہ کاروباری کارکردگی نہیں دکھا سکے جو ان کی صلاحیت کر سکتی تھی۔

درحقیقت، دیہی علاقوں میں درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی)، دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی)، اقلیتی برادریوں اور غریب خاندانوں کے لیے خود روزگار شروع کرنا ایک بڑا چیلنج ہوا کرتا تھا، لیکن آج یہ تصویر تیزی سے بدلتی نظر آرہی ہے۔ مرکزی حکومت کا اسٹارٹ اپ ولیج انٹرپرینیورشپ پروگرام (ایس وی ای پی) اس تبدیلی کی سب سے بڑی مثال کے طور پر ابھرا ہے۔

اسکیم کی تازہ ترین پیش رفت سے پتہ چلتا ہے کہ جون 2026 کے آخر تک 4.32 لاکھ دیہی کاروباری اداروں کی مدد کی گئی ہے، جن میں تقریبا 86 فیصد کاروباری افراد کا تعلق ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور اقلیتی برادریوں سے ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اسکیم کے فوائد کے 100 فیصد مستفیدین میں سے تقریبا 14 فیصد وہ ہیں جن کا تعلق عام زمرے سے ہے جو ان تین مخصوص زمروں میں نہیں آتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ اسکیم کاروبار بڑھانے کے ساتھ ساتھ سماجی انصاف اور معاشی شمولیت کا ایک موثر ذریعہ بن گئی ہے۔

اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کے بندیل کھنڈ علاقے میں دیہی معاش اور پانی کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے، خاص طور پر جل سہیلی کے ذریعے، پانی کی مہم چلا رہے سنجے سنگھ کہتے ہیں، دیہی ہندوستان میں صنعت کاری کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ اکثر فنڈز کی کمی کے ساتھ ساتھ رہنمائی، تربیت اور بازار تک رسائی کی کمی ہوتی ہے۔ ایس وی ای پی نے مل کر ان تینوں چیلنجوں کا حل پیش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اسکیم دیہی معیشت میں ایک نئی تبدیلی کی بنیاد بنتی دکھائی دے رہی ہے۔

ایس وی ای پی کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ اس کا کمیونٹی ڈھانچہ بھی ہے۔ یہ اسکیم سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جیز)، کمیونٹی ریسورس پرسن انٹرپرائز پروموشن (سی آر پی-ای پی)، بینکنگ نیٹ ورک اور پردھان منتری مدرا یوجنا جیسی اسکیموں سے منسلک ہے۔ یہ نہ صرف کاروباریوں کو کریڈٹ فراہم کرتا ہے بلکہ کاروبار کو کامیاب بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے۔ خاص طور پر کمیونٹی ریسورس پرسن انٹرپرائز پروموشن (سی آر پی-ای پی) کے کردار کو اسکیم کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں کو ترجیح دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے علاقے کے حالات اور ضروریات کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔

اس سلسلے میں مدھیہ پردیش میں دیہی ہندوستان کی ترقی کے لیے کام کرنے والے انل پارمر نے کہا، اس اسکیم کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے دیہی غریبوں کو روزگار پیدا کرنے والے بننے کی طرف پیش قدمی کی ہے۔ جب گاو¿ں کا کوئی شخص اپنا کاروبار شروع کرتا ہے تو دوسرے لوگوں کو بھی اس کے ساتھ روزگار ملتا ہے۔ اس طرح یہ پروگرام مقامی معیشت کو بھی تحریک فراہم کرتا ہے۔

وہ کہتے ہیں، پھر، مرکزی حکومت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مدھیہ پردیش، آسام، بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور اتر پردیش وہ ریاستیں ہیں جہاں سب سے زیادہ دیہی کاروباری اداروں کو اس اسکیم کے تحت مدد ملی ہے۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جہاں دیہی غربت، محدود صنعتی مواقع اور سماجی طور پر پسماندہ طبقات کی ایک بڑی آبادی رہتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پورے نظام میں خواتین کی کم از کم شرکت 60 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ یہ انتظام اس اسکیم کو خواتین کو بااختیار بنانے سے بھی جوڑتا ہے۔

اس اسکیم کی سب سے قابل ذکر کامیابی یہ ہے کہ اس نے پہلی نسل کے کاروباریوں کو آگے آنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ جن خاندانوں کی نسلوں نے کبھی کاروبار نہیں کیا تھا وہ اب اپنے گاو¿ں میں چھوٹے پیمانے کی صنعتیں اور خدمات پر مبنی کاروباری ادارے قائم کر رہے ہیں۔ مرکز کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ایس وی ای پی کے ذریعے تعاون یافتہ 99 فیصد کاروباری ادارے منافع بخش ہیں۔ ایس وی ای پی کاروباری ادارے کل گھریلو آمدنی میں 57 فیصد کا تعاون دیتے ہیں۔ 96 فیصد کاروباریوں نے بچت میں اضافے کا اعتراف کیا۔ اس کے ساتھ ہی، کل 75 فیصد کاروباری اداروں کی ملکیت یا انتظام خواتین کے پاس پایا گیا ہے۔ اس طرح، اسٹارٹ اپ ولیج انٹرپرینیورشپ پروگرام آج ایک ایسے نئے ہندوستان کی تصویر پیش کرتا ہے جہاں پسماندہ لوگ مستفید ہونے کے بجائے معاشی ترقی کے رہنما بن رہے ہیں۔

حکومت ہند کی دیہی ترقی کی وزارت سے موصولہ اعداد و شمار کے مطابق، ایس وی ای پی کے تحت تعاون یافتہ کاروباری اداروں کی تعداد یہ ہے: کیرالہ-51,926، بہار-35,899، جھارکھنڈ-34,481، مغربی بنگال-33,723، اتر پردیش-31,863، مدھیہ پردیش-30,177، آندھرا پردیش-27,692، آسام-24,082، چھتیس گڑھ-23,403، تلنگانہ-19,602، اڈیشہ-18,441 0، راجستھان-12,086 1، مہاراشٹر-11,925 2، ہریانہ-9,854 3، تامل ناڈو-7,200 4، جموںاینڈکشمیر-6,026 8 کاروباری ادارے شامل ہیں۔ تاہم یہ فہرست تین ماہ پرانی ہے، وزارت کے حکام کا کہنا ہے کہ تازہ ترین فہرست میں نئے ناموں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande