
ممبئی ، 14 ستمبر (ہ س)۔ بامبے ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد مرکزی تفتیشی بیورو یعنی سی بی آئی نے آنجہانی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی سابق مینیجر دیشا سالیان کی موت کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ ایف آئی آر میں شیوسینا یو بی ٹی کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے، سابق وزیر آدتیہ ٹھاکرے، سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ، ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ، سابق پولیس افسر سچن وازے اور اداکار ڈینو موریا سمیت 33 سے زائد افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ سی بی آئی نے معاملے کی تفتیش شروع کردی ہے۔سی بی آئی کے مطابق ایف آئی آر میں قتل، اجتماعی عصمت دری، مجرمانہ سازش، شواہد کو تباہ کرنے اور مبینہ طور پر ملزمان کو بچانے کے لیے غلط معلومات پھیلانے جیسے سنگین الزامات سے متعلق پہلوؤں کی جانچ کی جارہی ہے۔ تاہم کسی شخص کا نام ایف آئی آر میں درج ہونا بذات خود اس کے خلاف جرم ثابت نہیں کرتا۔ الزامات کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی مزید قانونی کارروائی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔سی بی آئی کی تفتیش کا دائرہ دیشا سالیان کی موت کے حالات کے ساتھ ساتھ معاملے کو مبینہ طور پر دبانے اور تفتیش پر اثر انداز ہونے سے متعلق پہلوؤں تک پھیلا ہوا ہے۔ سی بی آئی یہ بھی جانچ کرے گی کہ آیا کسی سرکاری ملازم یا پولیس افسر نے سرکاری وسائل، پولیس مشینری، دستاویزات یا سرکاری ریکارڈ کا مبینہ طور پر غلط استعمال کیا تھا۔ ریکارڈ میں مبینہ چھیڑ چھاڑ، دستاویزات کو تباہ کرنے یا دبانے اور تفتیش کو متاثر کرنے سے متعلق الزامات کی بھی جانچ کی جائے گی۔تفتیش کے دائرے میں آدتیہ ٹھاکرے، روہن رائے، ڈینو موریا، سورج پنچولی، آدتیہ ٹھاکرے کے محافظ، ریا چکرورتی، شووک چکرورتی، سچن وازے، پرم بیر سنگھ، ڈپٹی کمشنر پولیس وشال ٹھاکر اور ادھو ٹھاکرے کے علاوہ اس وقت کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ سمیت دیگر افراد کے کردار کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اشوک دیودھے، جگدیو کلاپد، شیلیندر ناگرکر، چماجی آڑھو اور ارجن راجنے کے کردار کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ مالونی پولیس اسٹیشن سے وابستہ افسران بھی سی بی آئی کی تفتیش کے دائرے میں ہیں۔سی بی آئی کی ایف آئی آر میں دیشا سالیان کے پوسٹ مارٹم میں مبینہ تاخیر سے متعلق ڈاکٹروں اور ملازمین کے علاوہ ڈاکٹر سنجے جادھو اور کلینہ میں واقع فارنسک سائنس لیبارٹری کے متعلقہ افسران کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں اسسٹنٹ کیمیکل اینالسٹ این پی بھالے کا نام بھی شامل بتایا گیا ہے۔ دیشا سالیان کی موت مالاڈ میں واقع ایک عمارت سے گرنے کے بعد ہوئی تھی۔ اس کے بعد مالونی پولیس نے معاملے کی تفتیش کی تھی اور عدالت میں کلوزر رپورٹ داخل کی تھی۔ بعد میں دیشا سالیان کے والد نے بمبئی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرکے معاملے کی سی بی آئی تفتیش کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد اب سی بی آئی نے ایف آئی آر درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ قانونی عمل کے مطابق ایف آئی آر میں نام درج ہونے سے ہی کسی شخص کو قصوروار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تفتیش کے دوران سامنے آنے والے شواہد اور حقائق کی بنیاد پر ہی مزید قانونی کارروائی طے ہوگی۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد دیشا سالیان کے والد نے کہا کہ اب انہیں انصاف ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے