
نئی دہلی، 14 ستمبر(ہ س )۔
برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی آئے چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان دو طرفہ ملاقات میں اگرچہ سرحدی تنازع کا معاملہ زیرِ بحث نہیں آیا، تاہم وزارتِ دفاع کی سالانہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر چینی فوج کی تعیناتی میں نمایاں کمی آئی ہے۔
وزارتِ دفاع کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان اور چین کے درمیان سیاسی، سفارتی اور فوجی سطح پر ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں شمالی سرحدوں کی صورتِ حال میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی فوج نے شمالی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی تعیناتی مضبوط رکھی ہے، جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی اور فوجی رابطوں سے خطے میں استحکام آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہندوستان اور چین اب اپنے اختلافات کو دشمنی کے بجائے بات چیت، شراکت داری اور پرامن طریقے سے حل کرنے کے عزم پر زور دے رہے ہیں۔ وزارتِ دفاع نے بتایا کہ ہندوستان کی جانب سے ایل اے سی اور تربیتی علاقوں میں تقریباً 10 بریگیڈ سائز کی فوج تعینات کیے جانے کے بعد شمالی سرحد پر چینی فوج کی تعیناتی میں خاصی کمی دیکھی گئی ہے۔
وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ایل اے سی کے تمام سیکٹروں میں ہندوستانی فوج پوری طرح چوکس اور کسی بھی اچانک صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ 2025 میں شمالی محاذ پر پیدل فوج، ٹینک، توپ خانہ اور فضائی دفاع سمیت مختلف جنگی شعبوں کو اس طرح تعینات کیا گیا کہ وہ ضرورت پڑنے پر مو¿ثر انداز میں کارروائی کر سکیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں ایل اے سی کے دوسری جانب چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کی تعیناتی میں واضح کمی ہوئی۔ ہندوستان اور چین کے درمیان مارچ اور جولائی 2025 میں ورکنگ میکانزم فار کنسلٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن (ڈبلیو ایم سی سی ) کے 33ویں اور 34ویں دور کے مذاکرات بھی ہوئے۔
اس کے علاوہ سرحدی مسئلے کے حل کے لیے دونوں ملکوں کے خصوصی نمائندوں کی سطح پر مذاکرات بھی دوبارہ شروع ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق دسمبر 2024 اور اگست 2025 میں اس سلسلے میں دو دور کی بات چیت ہوئی۔
وزارتِ دفاع کی رپورٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے چین کے دورے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مودی گزشتہ سال اگست میں تیان جن میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے چین گئے تھے۔ اس سے قبل صدر شی جن پنگ برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی آئے تھے۔
ہفتے کے روز برکس اجلاس کے موقع پر مودی اور شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کئی اہم امور پر گفتگو ہوئی، جن میں دو طرفہ تجارتی خسارے کو کم کرنا، دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنا اور کثیر ملکی پلیٹ فارم پر منصفانہ تجارت کو یقینی بنانا شامل تھا۔ تاہم اس ملاقات میں ایل اے سی کے مسئلے پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔
آپریشن سندور میں فضائیہ کا کردار
وزارتِ دفاع نے اپنی سالانہ رپورٹ میں آپریشن سندور کے دوران ہندوستانی فضائیہ کے کردار کو بھی نمایاں کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستانی فضائیہ نے پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر درست اور مو¿ثر حملے کیے، جن میں نور خان اور رحیم یار خان کے ایئر بیس بھی شامل تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ڈرون اور یو اے وی حملوں کے دوران ہندوستانی فضائیہ نے ملکی فضائی حدود کی حفاظت میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ فضائی دفاع کے لیے ایک مضبوط نظام کے تحت آکاش میزائل سسٹم، پیچورا اور اوسا-اے کے جیسے پلیٹ فارم مو¿ثر انداز میں تعینات کیے گئے تھے۔
وزارتِ دفاع نے ایس-400 فضائی دفاعی نظام کی ایک کارروائی کا بھی ذکر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایس-400 یونٹ نے ایک پاکستانی خصوصی مشن طیارے کو تقریباً 314 کلومیٹر کی دوری سے نشانہ بنا کر تباہ کیا۔ وزارت کے مطابق اس کارروائی نے ہندوستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی دفاعی نظام کی صلاحیت کو نمایاں کیا۔
جموں و کشمیر کی صورتِ حال
جموں و کشمیر کے بارے میں وزارتِ دفاع نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ فوج کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں وہاں سکیورٹی کی صورتِ حال بڑی حد تک قابو میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق عوام نے ترقی کا راستہ اختیار کیا ہے اور حکومت اور ہندوستانی فوج کی مختلف سرگرمیوں میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔
وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں تشدد میں کمی، احتجاج میں کمی اور پتھراو¿ کے واقعات کا خاتمہ ہوا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ