بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے برکس اعلامیہ کو سفارتی کامیابی قرار دیا، پنچایت معاونین کے مطالبات پر حکومت سے غور کی اپیل
لکھنؤ، 13 ستمبر (ہ س)۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر اور اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے نئی دہلی میں منعقدہ 18ویں برکس سربراہ اجلاس کے دوران جاری کیے گئے ’نئی دہلی اعلامیہ‘ کو اہم سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکر
بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے برکس اعلامیہ کو سفارتی کامیابی قرار دیا، پنچایت معاونین کے مطالبات پر حکومت سے غور کی اپیل


لکھنؤ، 13 ستمبر (ہ س)۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر اور اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے نئی دہلی میں منعقدہ 18ویں برکس سربراہ اجلاس کے دوران جاری کیے گئے ’نئی دہلی اعلامیہ‘ کو اہم سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین اور ایران کے حوالے سے امریکی پالیسیوں، بڑھتی عالمی کشیدگی، تنازعات اور تجارتی محصولات کے باعث پیدا ہونے والے معاشی بحران کے درمیان برکس ممالک کا 140 پیراگراف پر مشتمل اعلامیہ اتفاقِ رائے سے جاری ہونا باہمی سمجھ بوجھ اور سفارتی بصیرت کا مظہر ہے۔

اتوار کو لکھنؤ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں مایاوتی نے کہا کہ برکس ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش امید افزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکس کرنسی کی ترقی کی سمت میں آگے بڑھنا بھی ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔

فلسطین کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ دو ریاستی حل اور 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کے ساتھ دہشت گردی سے ہر سطح پر نمٹنے کا عزم اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام کا ذکر کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ظاہر کیے گئے عزم سے بھارت کے موقف کو مناسب حمایت ملی ہے، جو قابل تعریف ہے۔

چین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے مایاوتی نے کہا کہ دونوں ممالک کو اپنے اختلافات کو تنازع میں تبدیل کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کو ترقی میں شراکت دار سمجھ کر آگے بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس نقطۂ نظر کے نتائج آنے والے وقت میں سامنے آئیں گے۔ ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع کا جلد حل ہونا بھی مناسب ہوگا۔

مایاوتی نے اتر پردیش حکومت سے ریاست کے تقریباً 58 ہزار پنچایت معاونین کے مطالبات پر ہمدردانہ غور کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پنچایت معاونین اعزازیہ بڑھا کر باعزت سطح پر لانے اور کنٹریکٹ کے بجائے مستقل کیے جانے سمیت مختلف مطالبات کو لے کر گزشتہ چند دنوں سے لکھنؤ میں گرین ایکو گارڈن کے قریب احتجاج کر رہے ہیں۔

بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ حکومت کو پنچایت معاونین کے مطالبات پر ہمدردانہ غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مسائل کا مناسب حل نکالا جانا بہتر ہوگا۔

مایاوتی نے 3 ستمبر کو لکھنؤ میں واقع پارٹی کے ریاستی دفتر میں ہونے والی میٹنگ میں کئے گئے فیصلوں کی معلومات بھی دیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے کام کو جنگی پیمانے پر تیز کرنے کے لیے بی ایس پی کی تنظیم کو تین سیکٹروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سیکٹر نمبر ایک میں اتر پردیش اور اتراکھنڈ کو رکھا گیا ہے اور اس کی نگرانی وہ خود کریں گی۔ ملک کی دیگر ریاستوں، جہاں پارٹی کی تنظیم فعال ہے، انہیں برابر دو سیکٹروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان کے لیے مرکزی سیکٹر انچارج مقرر کیے گئے ہیں۔

مایاوتی نے کہا کہ وہ وقتاً فوقتاً ان سے رابطہ کرتی رہیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ چیف سیکٹر انچارج کا عہدہ ختم کردیا گیا ہے۔ اب سیکٹر انچارج اپنی رپورٹ پارٹی کے قومی نائب صدر آنند کمار کو پیش کریں گے اور آنند کمار ان کی کارکردگی کی رپورٹ انہیں دیں گے۔

مایاوتی نے اپنے بھتیجے آکاش آنند پر الزام لگایا کہ وہ اپنے سسر اشوک سدھارتھ کے بہکاوے میں آکر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی صحت کے حوالے سے چل رہی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں۔ لیکن آکاش آنند ان کے بیمار ہونے کی افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کا ثبوت آکاش آنند کی جانب سے پارٹی کے انچارج آلوک کمار کو کیا گیا فون ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آکاش نے آلوک کمار سے ان کی طبیعت کے بارے میں پوچھا اور یہ جاننا چاہا کہ ’بہن جی‘ بیمار چل رہی ہیں یا نہیں۔ مایاوتی کے مطابق آلوک کمار نے جواب دیا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ اس کے بعد آکاش آنند نے ان سے یہ بھی کہا کہ بہن جی کو یہ نہ بتایا جائے کہ انہوں نے فون کیا تھا۔

بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ اس فون کال کے پیچھے آکاش آنند کی نیت اچھی بھی ہوسکتی ہے اور غلط بھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آکاش فی الحال لا شعوری کا مظاہرہ کر رہے رہے ہیں اور اپنے سسر اشوک سدھارتھ کے زیراثر کام کر رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande