ہندوستھان سماچار کا کثیر لسانی ماڈل ہندوستانی لسانی تنوع کی طاقت: مارڈیکر
15. زبانوں میں بیک وقت خبروں کی دنیا، اب عالمی توسیع کی تیاری وارانسی، 13 ستمبر (ہ س)۔ ہندوستان کے لسانی تنوع کو صحافت کی طاقت میں تبدیل کرکے ہندوستھان سماچار نے کثیر لسانی نیوز سروس کا ایک منفرد ماڈل پیش کیا ہے۔ ہندوستھان سماچار دنیا کی واحد
ہندوستھان


15. زبانوں میں بیک وقت خبروں کی دنیا، اب عالمی توسیع کی تیاری

وارانسی، 13 ستمبر (ہ س)۔

ہندوستان کے لسانی تنوع کو صحافت کی طاقت میں تبدیل کرکے ہندوستھان سماچار نے کثیر لسانی نیوز سروس کا ایک منفرد ماڈل پیش کیا ہے۔ ہندوستھان سماچار دنیا کی واحد کثیر لسانی نیوز ایجنسی ہے جو بیک وقت 15 زبانوں میں خبریں فراہم کرتی ہے۔ یہ بات ہندوستھان سماچار گروپ کے چیئرمین اروند بھال چندر مارڈیکر نے اتوار کو مہاتما گاندھی کاشی ودیا پیٹھ کے گاندھی اسٹڈی پیٹھ آڈیٹوریم میں یومِ ہندی کے موقع پر منعقدہ ”بھارتی بھاشا سماگم-2026“ میں کہی۔

ہندوستھان سماچار کی جانب سے منعقدہ ”ہندوستان کی علمی روایت، علاقائی زبانیں اور خوشحال بھارت“ کے موضوع پر منعقدہ اجلاس میں اروند مارڈیکر نے کہا کہ ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد بھارت کے شہریوں تک ان کی اپنی زبانوں میں درست اور صحیح معلومات پہنچانا تھا۔ آزادی کے بعد شروع ہونے والا یہ سفر تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط ہو چکا ہے۔ آج ادارہ 14 بھارتی زبانوں اور انگریزی سمیت مجموعی طور پر 15 زبانوں میں خبریں فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت جیسے کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی ملک میں ایک ساتھ اتنی زبانوں میں خبریں فراہم کرنا صرف صحافت کی کامیابی نہیں بلکہ لسانی اتحاد اور تنوع کی بھی ایک مثال ہے۔

زبانوں کو مشترکہ معلوماتی پلیٹ فارم سے جوڑا

اروند مارڈیکر نے کہا کہ بھارتی زبانیں صرف بول چال اور رابطے کا ذریعہ نہیں ہیں بلکہ ان میں ہزاروں سال پرانی علم کی روایت، ثقافت، تاریخ اور سماجی تجربات محفوظ ہیں۔ ہندوستھان سماچار نے اسی تنوع کو اپنی طاقت بناتے ہوئے مختلف زبانوں میں خبریں فراہم کرکے ملک کے مختلف لسانی معاشروں کو ایک مشترکہ معلوماتی پلیٹ فارم سے جوڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستھان سماچار کا قیام شیو رام شنکر آپٹے نے اس تصور کے ساتھ کیا تھا کہ آزاد بھارت کے ہر شہری کو اپنی زبان میں درست معلومات ملنی چاہئیں۔ مجاہدِ آزادی وِنایک دامودر ساورکر اس کے اہم محرکین میں شامل رہے۔ ممبئی سے شروع ہونے والا یہ سفر آج 15 زبانوں تک پہنچ چکا ہے۔

ٹیلی پرنٹر سے ڈیجیٹل دنیا تک کا سفر

ہندوستھان سماچار کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے اروند بھال چندر مارڈیکر نے کہا کہ 1962 کی چین جنگ سمیت کئی اہم واقعات کے دوران ایجنسی نے خبریں فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دیوناگری رسم الخط میں ٹیلی پرنٹر کی شروعات بھی ادارے کی اہم کامیابیوں میں شامل رہی۔ اس وقت اطلاعات کی ترسیل کے ذرائع محدود تھے اور بھارتی زبانوں میں تیزی سے خبریں پہنچانے کی سمت میں یہ ایک اہم قدم تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے دوران ادارے کو سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ 1975 کے بعد مشکلات میں اضافہ ہوا اور 1983 میں مالی بحران کے باعث ادارے کے لیے رِسیور مقرر کیا گیا۔ اس کے باوجود ملازمین اور معاونین کا ادارے پر اعتماد برقرار رہا۔ عدالتی جدوجہد کے بعد ادارے نے دوبارہ اپنا سفر شروع کیا۔

دیش سے دنیا تک توسیع کی تیاری

اروند بھال چندر مارڈیکر نے کہا کہ ہندوستھان سماچار اب صرف بھارت تک محدود نہیں رہنا چاہتا۔ عالمی سطح پر اپنی موجودگی مضبوط کرنے کی سمت میں کام کیا جا رہا ہے۔ ایک روسی نیوز ایجنسی کے ساتھ کام شروع ہو چکا ہے اور ایک جاپانی ایجنسی کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے۔ برکس سے وابستہ مواقع سے بھی ہندوستھان سماچار کو فائدہ ملنے کی امید ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایجنسی کا مقصد ایک قابلِ اعتماد خبر رساں ادارے کے طور پر اپنے کردار کو مزید وسیع کرنا ہے۔ ملک کو اولین ترجیح دیتے ہوئے اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر صحافت کرنا ہندوستھان سماچار کی بنیادی روح ہے۔

350 سے زائد اخبارات تک رسائی

اروند بھال چندر مارڈیکر نے اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ پرسار بھارتی، دوردرشن سمیت کئی بڑے ادارے ہندوستھان سماچار کے صارفین (سبسکرائبرز) ہیں۔ نیوز پورٹلز اور تقریباً ساڑھے تین سو اخبارات بھی اس کی خبروں کا استعمال کرتے ہیں۔ نیوز سروس کے ساتھ ساتھ ایجنسی نے ڈیجیٹل شعبے میں بھی اپنی موجودگی مضبوط کی ہے۔

ہندی میں بھارتی ثقافت کے لیے وقف ماہانہ رسالہ ”نووتھان“ اور عصری موضوعات پر مرکوز پندرہ روزہ رسالہ ”یگ وارتا“ بھی شائع کیا جا رہا ہے۔ ان کے ذریعے بھارتی ثقافت، عصری واقعات اور خیالات کو وسیع قارئین تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

صحافت کا دائرہ سیاست اور جرائم سے آگے بڑھے

اروند مارڈیکر نے صحافت کا دائرہ وسیع کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست اور جرائم کے علاوہ معاشرے میں تعلیم، ثقافت، سماجی خدمت، اختراع، فنون اور ترقی سے متعلق متعدد مثبت سرگرمیاں بھی ہو رہی ہیں۔ ایسی خبروں کو بھی نمایاں طور پر سامنے لایا جانا چاہیے۔

انہوں نے نوجوان نسل کو بھارت کی تاریخ اور علم کی روایت سے جوڑنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو تاریخ بتانے کے ساتھ ساتھ ان سے نئی معلومات بھی حاصل کرنی چاہئیں اور اسے معاشرے تک پہنچانا چاہیے۔

اروند بھال چندر مارڈیکر نے لوگوں سے ہندوستھان سماچار کے مقامی دفاتر سے جڑنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر معاشرے میں کوئی مثبت اور اہم کام ہو رہا ہو تو اس کی اطلاع مقامی دفتر کو دی جانی چاہیے۔ ایسی خبروں کو متعلقہ فرد کے نام کے ساتھ وسیع پلیٹ فارم تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستھان سماچار کو ابھی بہت آگے جانا ہے۔ ہدف واضح ہے اور چیلنجز کا بھی علم ہے۔پوری امید ہے کہ ملک کو اولین ترجیح دیتے ہوئے قابلِ اعتماد صحافت کا یہ سفر آگے بڑھتا رہے گا۔

کاشی سے دنیا کے لیے لسانی صحافت کا پیغام

قابلِ ذکر ہے کہ ”بھارتی بھاشا سماگم-2026“ میں ہندوستھان سماچار کے 15 زبانوں پر مشتمل سفر کو بھارتی لسانی تنوع کی طاقت کے طور پر پیش کیا گیا۔ کاشی سے یہ پیغام گیا کہ زبان صرف شناخت کا ذریعہ نہیں بلکہ علم، معلومات اور ترقی کی طاقت بھی ہے۔

بھارت کی زبانوں میں موجود وسیع علمی ذخیرے کو جدید ٹیکنالوجی اور عالمی مواصلاتی ذرائع سے جوڑ کر بھارتی زبانوں کو دنیا کے علمی مباحث میں نئی جگہ دلائی جا سکتی ہے۔ ہندوستھان سماچار کا کثیر لسانی ماڈل اسی سمت میں بھارتی صحافت کا ایک منفرد تجربہ بن کر سامنے آیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande