
نئی دہلی، 13 ستمبر (ہ س)۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اتوار کو 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں کہا کہ آج کی معاشی، آبادیاتی اور جغرافیائی سیاسی حقیقتیں 1945 جیسی نہیں ہیں۔ عالمی اداروں کے ڈھانچے میں وقت کے تقاضوں کے مطابق تبدیلی ہونی چاہیے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بریٹن ووڈز نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔
گوتریس نے کہا کہ دنیا تیزی سے کثیر قطبی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ کثیر قطبیت عالمی نظام اور اداروں میں توازن اور مساوات لانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکس سربراہ اجلاس کے موضوع کے مطابق دنیا کو لچک، اختراع، تعاون اور پائیدار ترقی کی سمت آگے بڑھنا ہوگا۔ یہ جامع عالمی ترقی کے لیے ضروری ہے۔
گوتریس نے جامع عالمی ترقی کے لیے چار اہم نکات پر زور دیا۔ ان میں پہلا مالیاتی اصلاحات ہے۔ اس کے تحت ترقی پذیر ممالک کے لیے زیادہ مالی وسائل، قرضوں میں راحت اور عالمی مالیاتی اداروں میں ان کی زیادہ شمولیت کی ضرورت ہے۔
دوسرا نکتہ ٹیکنالوجی ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں موجود خلیج کو کم کرنے اور ترقی پذیر ممالک کو کمپیوٹنگ کی صلاحیت، ڈیٹا اور ہنر فراہم کرنے پر زور دیا۔
تیسرا نکتہ موسمیاتی انصاف ہے۔ اس میں قابل تجدید توانائی کو فروغ دینا، اخراج میں کمی لانا اور ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی مالیات فراہم کرنا شامل ہے۔
چوتھا نکتہ امن ہے۔ اس کے تحت غزہ، یوکرین، سوڈان اور دیگر تنازعات کا پرامن حل اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کا احترام ضروری ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد