
نئی دہلی، 13 ستمبر (ہ س):۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے 18ویں برکس سربراہی کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں تمام ممالک کی فعال شرکت اور اہم تعاون کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران ہونے والی بات چیت نے اس یقین کو مزید مضبوط کیا ہے کہ برکس محض ممالک کا ایک گروپ نہیں بلکہ مسائل کے حل کا ایک پورا ماحولیاتی نظام ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کانفرنس میں منظور کی گئی ’نئی دہلی اعلامیہ‘ مشترکہ نقطہ نظر اور مستقبل کے تعاون کو واضح سمت فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ برکس میں ہونے والی بات چیت اور طے شدہ نتائج کو مقررہ مدت کے اندر عملی اقدامات اور زمینی سطح پر مو¿ثر نتائج سے جوڑنا ہوگا۔
انہوں نے کہا، ”برکس اپنی تیسری دہائی میں داخل ہونے جا رہا ہے۔ دنیا اب ہم سے صرف خیالات اور عزم ہی نہیں بلکہ ٹھوس نتائج کی بھی توقع رکھتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری مشترکہ کوششوں سے ہم ان توقعات پر ضرور پورا اتریں گے۔“ انہوں نے برکس کے اگلے میزبان چین کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ برکس کا ڈھانچہ صرف فائلوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کے اثرات زمین پر حقیقی تبدیلی اور عملی نتائج کی صورت میں دکھائی دینے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام ممالک مل کر ان اہداف کے حصول کے لیے کام کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ تمام شرکاء کے خیالات اور تجاویز نے تعاون کو مزید وسیع اور گہرا بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی شرکت برکس کی بڑھتی ہوئی اہمیت، کشادگی اور شمولیت کی عکاسی کرتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ