پولیس اجازت نہ ملنے کے باوجود منوج جرانگے 15 ستمبر کو ممبئی کے لیے روانہ ہوں گے
جالنہ، 13 ستمبر (ہ س) مراٹھا ریزرویشن کی تحریک کے سلسلے میں ممبئی میں احتجاج کے لیے پولیس سے اجازت نہ ملنے کے باوجود مراٹھا رہنما منوج جرانگے نے اتوار کو واضح کیا کہ ان کی تحریک کسی بھی صورت میں نہیں رکے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اتوار سے سیلائن او
Manoj Jarange Mumbai March Despite Police Permission Denial


جالنہ، 13 ستمبر (ہ س) مراٹھا ریزرویشن کی تحریک کے سلسلے میں ممبئی میں احتجاج کے لیے پولیس سے اجازت نہ ملنے کے باوجود مراٹھا رہنما منوج جرانگے نے اتوار کو واضح کیا کہ ان کی تحریک کسی بھی صورت میں نہیں رکے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اتوار سے سیلائن اور پانی لینا بھی بند کردیں گے اور پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق 15 ستمبر کو جالنہ سے ممبئی کے لیے روانہ ہوں گے۔ جرانگے نے کہا کہ وہ 19 ستمبر کو ممبئی کے آزاد میدان پہنچ کر وہاں احتجاج اور بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے۔

جرانگے 29 اگست سے جالنہ میں مراٹھا ریزرویشن کے مطالبے کو لے کر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کررہے ہیں۔ اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت مبینہ سازش کے تحت ان کی ممبئی تحریک کو روکنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے اس مرتبہ پولیس کی جانب سے احتجاج کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ جرانگے نے کہا کہ گزشتہ سال گنیش اتسو کے دوران ان کی تحریک کو اجازت دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ وہ طے شدہ پروگرام کے مطابق جالنہ سے ممبئی روانہ ہوں گے۔ جرانگے نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چاہے تو ان پر گولیاں چلاسکتی ہے، لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے حکومت سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے اور تحریک کے لیے اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔

جرانگے کی تحریک کے لیے اجازت حاصل کرنے کے سلسلے میں مراٹھا رہنما ویریندر پوار اتوار کو آزاد میدان پولیس اسٹیشن پہنچے اور پولیس افسران سے بات چیت کی۔ تاہم پولیس نے متعدد وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ پولیس کے مطابق ممبئی میں 14 ستمبر سے گنیش اتسو شروع ہورہا ہے۔ اس دوران شہر میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی ہوگی۔ ایسی صورت حال میں ہزاروں مظاہرین کے ممبئی پہنچنے سے امن و امان اور عوامی تحفظ کے سامنے چیلنج پیدا ہوسکتا ہے۔

پولیس نے اجازت مسترد کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے امت ساہنی معاملے میں دیے گئے فیصلے، بامبے ہائی کورٹ کے احکامات اور ریاستی حکومت کی جانب سے احتجاج سے متعلق جاری کردہ ہدایات کا بھی حوالہ دیا ہے۔ جرانگے کی جانب سے دی گئی درخواست میں تقریباً 4000 سے 4500 مظاہرین کے ممبئی پہنچنے کی بات کہی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ آزاد میدان میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو رکھنے کی گنجائش کافی نہیں ہے۔

پولیس کے مطابق 2024 میں مراٹھا تحریک کے دوران تقریباً 5000 مظاہرین ممبئی پہنچے تھے۔ اس وقت شہر میں ٹریفک، اسکولوں، کاروباری سرگرمیوں اور اسپتالوں کی خدمات متاثر ہوئی تھیں۔ پولیس کو خدشہ ہے کہ اس مرتبہ بھی بڑی تعداد میں مظاہرین کے ممبئی پہنچنے سے شہر کا معمول کا نظام متاثر ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ تحریک سے پہلے ممبئی بند کی دی گئی کال کو بھی پولیس نے سنجیدگی سے لیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔

پولیس سے اجازت نہ ملنے کے بعد منوج جرانگے نے مراٹھا برادری کے لوگوں سے بڑی تعداد میں ممبئی پہنچ کر تحریک میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک پرامن رہے گی۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تحریک کے دوران کسی مراٹھا نوجوان کا خون بہا تو وہ صرف 10 منٹ میں پورے مہاراشٹر میں بند کی کال دیں گے۔جرانگے نے ان لوگوں سے بھی اپیل کی جو ممبئی تک نہیں پہنچ سکتے کہ وہ تحریک کے راستے پر تقریباً 150 کلومیٹر تک مظاہرین کے ساتھ چلیں۔ انہوں نے مراٹھا خواتین سے بھی بڑی تعداد میں ممبئی پہنچنے اور تحریک میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande