
بارابنکی، 13 ستمبر (ہ س)۔ اتر پردیش کے ضلع گونڈہ کے برتن تاجر ونود ساہنی کے قتل کے معاملے میں متاثرہ خاندان سے ملاقات کے لیے جا رہے آزاد سماج پارٹی (کانشی رام) کے قومی صدر اور نگینہ سے رکن پارلیمنٹ چندرشیکھر آزاد کو اتوار کو بارابنکی میں پولیس نے روک لیا۔ مسولی تھانہ پولیس نے انہیں شہاب پور ٹول پلازہ پر روکا اور اپنی تحویل میں رام نگر واقع سرکٹ ہاؤس لے گئی۔
رام نگر تھانہ انچارج ارون کمار سنگھ نے بتایا کہ نگینہ کے رکن پارلیمنٹ کو رام نگر کے سرکٹ ہاؤس میں رکھا گیا ہے۔ انہیں گونڈہ کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ رکن پارلیمنٹ کو روکے جانے کی اطلاع ملتے ہی حامیوں میں غصہ پھیل گیا۔ ناراض کارکنوں نے شہاب پور ٹول پلازہ کا بیریئر توڑ دیا۔ اس کے باعث موقع پر کچھ دیر کے لیے افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ بعد میں بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کرکے صورتحال پر قابو پالیا گیا۔ حامیوں کا الزام ہے کہ انتظامیہ انہیں متاثرہ خاندان سے ملنے سے روک رہی ہے۔
ضلع گونڈہ کے پرَسپور تھانہ علاقے کے شہپور دھناوا کے رہنے والے ونود ساہنی (45) پر 10 ستمبر کی رات دکان بند کرکے گھر واپس جاتے وقت تیز دھار ہتھیار سے حملہ کیا گیا تھا۔ لکھنؤ کے کے جی ایم یو میں علاج کے دوران ان کی موت ہوگئی تھی۔ اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرکے پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔ اس سے قبل جمعہ کو سماج وادی پارٹی کے لیڈر راج پال کشیپ اور ہفتہ کو کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے کو بھی گونڈہ جاتے ہوئے روک دیا گیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد