
پٹنہ، 13 ستمبر(ہ س)۔ ریاستی حکومت اقلیتی نوجوانوں کو روزگار سے جوڑنے اور انہیں ہنر مندی کی تربیت کے ذریعے خود انحصاری کے ساتھ بااختیار بنانے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے۔ اس مقصد سے سال 2008-09،سے چل رہے وزیر اعلیٰ شرم شکتی منصوبہ کے تحت اب تک 5,186 نوجوانوں کو روزگار پر مبنی ہنر کی تربیت فراہم کی گئی ہے۔ٹریننگ یافتہ نوجوانوں میں سے 1,191 کو روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ اسکیم نوجوانوں کو بااختیار بناتی ہے کہ وہ انہیں مارکیٹ کی طلب سے متعلقہ ہنر فراہم کرکے روزگار کے قابل بنا یا جارہا ہے۔
سال2008-09 میں شروع کیے گئے وزیر اعلیٰ شرم شکتی منصوبہ نے اقلیتی نوجوانوں کی ہنر مندی کو ایک نئی سمت دی ہے۔ اس اسکیم کے تحت اب تک ہزاروں نوجوانوں کو مختلف ملازمتوں پر مبنی تربیت سے منسلک کیا گیا ہے۔ تقریباً 17 سال کی مدت میں 5,186 نوجوانوں کی تربیت اور 1,191 نوجوانوں کی ملازمت اس اسکیم کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔ تربیت کو سرٹیفکیٹس تک محدود رکھنے کے بجائے حکومت کی توجہ نوجوانوں کو حقیقی روزگار کے مواقع سے جوڑنے پر ہے۔ وزیر اعلیٰ شرم شکتی یوجنا کا بنیادی مقصد اقلیتی طبقوں کے نوجوانوں کو مختلف ملازمتوں پر مبنی شعبوں میں تربیت دے کر روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ یہ اسکیم نوجوانوں کی صلاحیتوں اور قابلیت کو فروغ دیتی ہے، انہیں روزگار کے لیے تیار کرتی ہے۔ اس سے نوجوانوں میں خود انحصاری کو فروغ دینے اور ان کے خاندانوں کی معاشی حالت کو مضبوط بنانے میں مدد مل رہی ہے۔
اسکل ڈیولپمنٹ کو جدید ٹکنالوجی کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے محکمہ اقلیتی فلاح کے زیر انتظام 11 ہاسٹلوں میں کمپیوٹر لیب قائم کی گئی ہیں۔ یہ لیب گیا، کشن گنج، کٹیہار، دربھنگہ، کھگڑیا، بیگوسرائے، اورنگ آباد، مدھوبنی، مظفر پور، نوادہ اور روہتاس کے ہاسٹلوں میں مقیم اقلیتی طبقوں کے نوجوانوں کو تربیتی سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔ان کمپیوٹر لیب میں نوجوانوں کو ڈیجیٹل دوست اور ڈپلومہ ان کمپیوٹر ایپلی کیشنز (ڈی سی اے) جیسے کورسز میں مہارت کی تربیت فراہم کرتی ہیں۔ اس کا مقصد انہیں ڈیجیٹل اور کمپیوٹر پر مبنی کام میں مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے، تاکہ وہ موجودہ روزگار کے مواقع کو بہتر طریقے سے استعمال کر سکیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan