
اورنگ آباد ، 13 ستمبر (ہ س) مراٹھا ریزرویشن کے لیے احتجاج کررہے منوج جرانگے نے حکومت پر سخت الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو مراٹھا برادری کے ووٹ تو چاہیے، لیکن غریب لوگوں کے مسائل سے اسے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی تحریک کے لیے مدد کے ہاتھ آگے بڑھانے والے لوگوں کے خلاف بھی تحقیقات شروع کی جارہی ہیں۔
منوج جرانگے نے ریاستی وزیر چندرشیکھر باونکُلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ باونکُلے عورت کے آنچل کے پیچھے چھپ کر وار کررہے ہیں۔ انہوں نے یہ طنز بھی کیا کہ باونکُلے کے افسر اب ہفتہ اور اتوار کو بھی کام کررہے ہیں۔ انتر والی سراتی میں جاری منوج جرانگے کی تحریک کا اتوار کو 16 واں دن ہے۔ جرانگے اپنے حامیوں کے ساتھ 15 ستمبر کو ممبئی کے لیے روانہ ہوں گے۔ ان کا منصوبہ ہے کہ 19 ستمبر کو ممبئی کے آزاد میدان پہنچ کر اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے۔
منوج جرانگے نے کہا کہ اب جو کچھ ہوگا وہ ممبئی میں ہوگا۔ ان کے مطابق ممبئی مارچ کے دوران پہلا قیام پٹودہ اور دوسرا قیام شری گوندا میں ہوگا۔ اس کے بعد 19 ستمبر کو صبح 10 بجے ممبئی کے آزاد میدان میں وہ مرن برت جاری کریں گے۔ جرانگے نے کہا کہ احتجاج کو ایک دن آگے یا پیچھے کیا جاسکتا ہے، لیکن کسان کے گھر کے حالات پر ضرب نہیں پڑنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بارش ہو یا دھوپ، مراٹھا برادری ممبئی آئے گی اور ضرور آئے گی۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے