برکس نئی دہلی اعلامیہ ہندوستانی تاجروں اور ایم ایس ایم ای کے لیے عالمی مواقع کے نئے دروازے کھولے گا: کھنڈیل وال
نئی دہلی، 13 ستمبر (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کی صدارت میں منعقدہ 18ویں برکس سربراہی اجلاس 2026 میں منظور کیا گیا نئی دہلی اعلامیہ ہندوستان کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہے، جو ہندوستانی تاجروں، ایم ایس ایم ای، اسٹارٹ اپس اور بر
18ویں برکس سربراہی کانفرنس کی تصویر


نئی دہلی، 13 ستمبر (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کی صدارت میں منعقدہ 18ویں برکس سربراہی اجلاس 2026 میں منظور کیا گیا نئی دہلی اعلامیہ ہندوستان کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہے، جو ہندوستانی تاجروں، ایم ایس ایم ای، اسٹارٹ اپس اور برآمد کنندگان کے لیے تجارت، سرمایہ کاری اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

چاندنی چوک سے رکنِ پارلیمنٹ اور کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز (سی اے آئی ٹی - کیٹ) کے قومی جنرل سکریٹری پروین کھنڈیل وال نے اتوار کے روز 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے دوران متفقہ طور پر جاری ہونے والے نئی دہلی اعلامیے پر یہ بات کہی۔ کھنڈیل وال نے کہا کہ یہ اعلامیہ عالمی سطح پر ہندوستان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور وزیر اعظم مودی کی اس کامیاب قیادت کا ثبوت ہے، جس کے سبب ہندوستان آج عالمی اسٹیج پر ایک طاقتور اور قابلِ اعتماد آواز بن کر ابھرا ہے۔

کیٹ کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ کاروباری آسانیاں، مقامی کرنسیوں میں لین دین، ڈیجیٹل ادائیگیاں، تکنیکی تعاون، مستحکم سپلائی چین اور اقتصادی شراکت داریوں پر دیا جانے والا زور ہندوستانی کاروباروں کو برکس کے رکن ممالک کی منڈیوں میں وسعت کے نئے مواقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے منصفانہ اور ضوابط پر مبنی عالمی تجارتی نظام سے متعلق عزم اور تحفظ پسندانہ پالیسیوں کی مخالفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ہندوستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو فائدہ پہنچے گا اور بین الاقوامی تجارت کو نئی مضبوطی ملے گی۔

کھنڈیل وال نے کہا کہ یہ اعلامیہ خود کفیل ہندوستان، میک ان انڈیا، ووکل فار لوکل اور لوکل ٹو گلوبل کے وژن کے عین مطابق ہے اور ہندوستانی مینوفیکچررز، تاجروں اور صنعت کاروں کو عالمی ویلیو چینز کے ساتھ مربوط ہونے کے زیادہ مواقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، اختراع اور فِن ٹیک پر خصوصی توجہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان شعبوں میں ہندوستان تیزی سے عالمی قیادت کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، دہشت گردی کے خلاف اختیار کیے جانے والے سخت مؤقف کو بھی انہوں نے ہندوستان کی دیرینہ پالیسی کو بین الاقوامی تائید ملنے کا ثبوت قرار دیا۔

نئی دہلی اعلامیے کی روح کے مطابق کھنڈیل وال نے ’’برکس ٹریڈ کنیکٹ مشن‘‘ شروع کرنے کی تجویز پیش کی۔ جس کے ذریعے ہندوستانی تاجروں اور ایم ایس ایم ای کو منڈی سے متعلق معلومات، خریدار-فروخت کنندہ میٹنگز، برآمدی معاونت اور تجارتی نیٹ ورکنگ جیسی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ کھنڈیل وال نے کہا، ’’نئی دہلی اعلامیہ محض ایک سفارتی دستاویز نہیں، بلکہ اقتصادی ترقی، تجارتی توسیع اور عالمی تعاون کا ایک دور اندیش روڈ میپ ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان عالمی معاشی نظام کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اس کا براہِ راست فائدہ ملک کے تاجروں، صنعت کاروں، ایم ایس ایم ای اور صنعتی دنیا کو حاصل ہوگا۔‘‘

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande