علم کو نظریاتی حدود میں قید نہیں کیا جانا چاہیے : امت شاہ
ممبئی ، 13 ستمبر (ہ س) مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو کہا کہ علم کو کسی بھی نظریے کی حدود میں محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔ حقیقی علم کبھی کسی نظریے کا پابند نہیں ہوتا، اس لیے اسے بغیر کسی رکاوٹ کے فروغ پانے اور معاشرے تک پہنچنے کا موقع ملنا
Amit Shah Knowledge Mumbai


ممبئی ، 13 ستمبر (ہ س) مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو کہا کہ علم کو کسی بھی نظریے کی حدود میں محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔ حقیقی علم کبھی کسی نظریے کا پابند نہیں ہوتا، اس لیے اسے بغیر کسی رکاوٹ کے فروغ پانے اور معاشرے تک پہنچنے کا موقع ملنا چاہیے۔ ممبئی میں گنیش گیانارتھی نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ علم بذات خود ایک نظریہ ہے۔ اگر اسے کسی مخصوص نظریے کی حدود میں قید کردیا جائے تو اس کی بنیادی نوعیت اور اصل مفہوم بھی محدود ہوجاتا ہے۔ ان کے مطابق علم اور اس کی اشاعت دونوں آزاد اور بلا روک ٹوک ہونی چاہیے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمیں اس بحث میں الجھنے کے بجائے مستقبل کی سمت پر توجہ دینی چاہیے کہ ایشیاٹک سوسائٹی کیوں قائم کی گئی، اسے کس نے قائم کیا اور اس کا مقصد کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ یہاں موجود علمی سرمایہ، علم اور ذخیرے کو ایک عظیم بھارت کی تعمیر کے لیے کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔

امت شاہ نے بھارت کی قدیم علمی روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسے ختم کرنے کی بار بار کوششوں کے باوجود یہ یادداشت اور زبانی روایت کے ذریعے زندہ رہی۔ نالندہ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی کتب خانے کو جلایا جاسکتا ہے، لیکن لوگوں کے ذہنوں میں یادداشت اور شروتی کی شکل میں محفوظ علم کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ نالندہ کے کتب خانے کو جلایا گیا اور طویل عرصے تک وہاں سے دھواں اٹھتا رہا، لیکن بھارت کی علمی روایت لوگوں کی یادداشت اور زبانی روایت میں برقرار رہی۔ امیت شاہ کے مطابق جو ممالک اپنی تاریخ، یادداشتوں، اقدار، زبانوں، دستاویزات اور روایات کو محفوظ رکھتے ہیں، انہیں آسانی سے غلام نہیں بنایا جاسکتا۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ کوئی ملک کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اگر وہ اپنی یادداشتوں، تاریخ، اقدار، زبان، دستاویزات اور روایات کی حفاظت نہیں کرسکتا تو اس کے زوال میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی فکری روایات اور علم کا طویل عرصے تک نوآبادیاتی نقطہ نظر سے مطالعہ اور جائزہ لیا جاتا رہا ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ طویل عرصے تک بھارت کے علم کو بھارت کی اپنی آواز میں تحریر نہیں کیا گیا بلکہ اسے نوآبادیاتی نظریے کی حامل زبان اور نقطہ نظر کے ذریعے پیش کیا گیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب بھارت کی علمی روایت کو اس کے اپنے نقطہ نظر، تاریخ اور فکری پس منظر کے ساتھ سمجھنے اور آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande