
لکھنؤ، 12 ستمبر(ہ س)۔ اتر پردیش میں 68,500 اسسٹنٹ ٹیچر بھرتی میں ریزرویشن سے متعلق معاملے کو لے کر ہفتہ کو امیدواروں نے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کیا۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ میٹنگ میں لیے گئے فیصلے کے مطابق ان کے معاملے پر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی سطح سے حتمی فیصلہ کیے جانے کی بات کہی گئی تھی، لیکن اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اسی مطالبے کو لے کر امیدواروں نے نائب وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کیا۔
پولیس نے گھیراؤ کرنے والے امیدواروں کو حراست میں لے کر بسوں کے ذریعے ایکو گارڈن بھیج دیا۔امیدواروں نے مطالبہ کیا کہ کمیشن کے حکم کے مطابق او بی سی (دیگر پسماندہ طبقات) کو ریزرو زمرے میں شامل کرتے ہوئے کل 150 میں سے 60 نمبر یعنی 40 فیصد کے معیار پر نظرثانی شدہ نتیجہ جاری کیا جائے اور اہل امیدواروں کو تقرری دی جائے۔تحریک کی قیادت کر رہے طوفان سنگھ نے بتایا کہ گزشتہ 10 ستمبر کو وزیر تعلیم سندیپ سنگھ کی صدارت میں ہونے والی میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سکریٹری پارتھ سارتھی سین کی جانب سے کہا گیا تھا کہ او بی سی امیدواروں کو پانچ فیصد کی چھوٹ ملنی چاہیے تھی اور انہیں ریزرو زمرے میں رکھا جانا چاہیے تھا۔ تاہم ایسا کیے بغیر اشتہار جاری کیا گیا اور بھرتی کا عمل مکمل کرنے کے بعد امیدواروں کو تقرریاں بھی دے دی گئیں۔انہوں نے کہا کہ اس بھرتی عمل کو تقریباً سات سال گزر چکے ہیں، اس لیے اب اس معاملے میں اعلیٰ سطح پر فیصلہ لینے کی ضرورت ہے۔
میٹنگ میں افسران کی جانب سے واضح کیا گیا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن کے حکم پر عمل کرتے ہوئے او بی سی زمرے کو ریزرو زمرے میں شامل کرنے، نظرثانی شدہ نتیجہ جاری کرنے اور اہل امیدواروں کو تقرری دینے کے سلسلے میں اعلیٰ سطح پر فیصلہ لیا جانا ضروری ہے۔بیسک تعلیم کے وزیر سندیپ سنگھ نے بھی اس پورے معاملے پر وزیر اعلیٰ سے بات کرنے کی بات کہی تھی۔ میٹنگ میں یہ بھی سامنے آیا تھا کہ معاملے پر حتمی اور مثبت فیصلہ وزیر اعلیٰ کی سطح سے ہی لیا جا سکتا ہے۔ اسی یقین دہانی کے بعد امیدواروں نے ہفتہ کو نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کیا۔دوسری جانب 68,500 اسسٹنٹ ٹیچر بھرتی کے ریزرو زمرے کے امیدواروں کا لکھنؤ کے ایکو گارڈن میں غیر معینہ مدت کا احتجاج آج بھی جاری ہے۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ وہ کئی برسوں سے اپنے حقوق اور انصاف کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan