
امراوتی، 12 ستمبر (ہ س)۔ امراوتی ضلع کے دریاپور شہر میں درختوں کی شاخوں کی چھٹائی کی اجازت لے کر بڑے پیمانے پر درخت کاٹے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ بجلی کی تاروں تک پہنچنے والے یا عمارت کے لیے خطرہ بننے والے درختوں کی چھٹائی کی اجازت مقامی میونسپلٹی سے حاصل کی گئی تھی، لیکن اسی اجازت کی آڑ میں 17 بڑے درختوں کو کاٹ دیا گیا۔ اس معاملے میں میونسپلٹی کے ہی بعض منتخب نمائندوں کی مبینہ حمایت حاصل ہونے کی بات سامنے آنے کے بعد دریاپور شہر میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔دریاپور شہر میں ترقیاتی کاموں کے نام پر بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کیے جانے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد شہریوں نے میونسپل انتظامیہ کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ شہریوں کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ دریاپور میونسپلٹی کے احاطے کے قریب ہنومان مندر کے پاس موجود 17 بڑے درخت کاٹ دیے گئے۔ معلومات کے مطابق دریاپور میونسپلٹی کی جانب سے شہر میں درختوں کی کٹائی کے کام کا ٹھیکہ ترقیاتی کاموں سے وابستہ ایک ٹھیکیدار کو دیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ اسی کام کی آڑ میں بڑے پیمانے پر درختوں کو کاٹ دیا گیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی اعتبار سے اہم پرانے اور بڑے درختوں کو کاٹنے سے علاقے کے ماحول کو نقصان پہنچا ہے۔درختوں کی کٹائی کے اس معاملے سے درختوں اور ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے شہریوں میں شدید ناراضی پائی جارہی ہے۔ شہریوں نے میونسپل انتظامیہ کے کام کاج پر سوال اٹھاتے ہوئے اس معاملے کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے