
نئی دہلی، 12 ستمبر (ہ س)۔ دہلی-ہریانہ کے درمیان واقع سنگھو بارڈر پر دیواروں پر قابل اعتراض اور خالصتان حامی نعرے لکھنے کے الزام میں دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے پنجاب کے فریدکوٹ سے تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس کے مطابق ،ملزمان نے ممنوعہ تنظیم سکھس فار جسٹس (ایس ایف جے) کے سربراہ اور نامزد دہشت گرد گرپت ونت سنگھ پنو کی ہدایت پر مبینہ طور پر یہ واردات انجام دی تھی۔ گرفتار ملزمین کی شناخت پریت پال، ہرمندر سنگھ اور شیش پال کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے واردات میں استعمال ہونے والی کار بھی برآمد کرلی ہے۔
پولیس کے مطابق 6 ستمبر کو سنگھو بارڈر کی دیواروں پر قابِ اعتراض نعرے اور گرافٹی لکھے جانے کی اطلاع ملی تھی۔ اس معاملے میں اسپیشل سیل نے ایف آئی آر درج کرکے تفتیش شروع کی۔ تفتیش کے دوران جائے وقوعہ اور آس پاس نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی جانچ کی گئی۔ فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا گیا اور ان کی لوکیشن پنجاب کے فریدکوٹ تک پہنچی۔ اس کے بعد پولیس ٹیم نے وہاں کارروائی کرکے تینوں کو گرفتار کرلیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق تفتیش میں پریت پال کے پنو سے براہ راست رابطے میں ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ الزام ہے کہ پنوں کی ہدایت پر ہی سنگھو بارڈر کے آس پاس کی دیواروں پر قابل اعتراض اور خالصتان حامی نعرے لکھے گئے تھے۔ تفتیشی ایجنسیاں اب پریت پال کے پاکستان میں موجود کسی دہشت گرد آپریٹو سے ممکنہ رابطے کی بھی جانچ کر رہی ہیں۔
پولیس کے مطابق پریت پال کے خلاف پہلے ہی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت مقدمہ درج ہے۔ تینوں ملزمان سے علی پور تھانے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پوچھ گچھ میں اسپیشل سیل کے ساتھ انٹیلی جنس بیورو کی ٹیمیں بھی شامل ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد