
رائے گڑھ میں بس سروس بند ہونے سے 250 طلبہ کے لیے اسکول پہنچنا مشکل ، دوبارہ پیدل سفر شروعرائے گڑھ، 12 ستمبر (ہ س) ۔ رائے گڑھ ضلع میں نیریل وکاس کے راستے کَشَیلے جانے والی طلبہ کی بس سروس 11 ستمبر سے بند کردی گئی ہے، جس کے باعث طلبہ کو ایک بار پھر پیدل چل کر اسکول جانے کی دشواری کا سامنا ہے۔ بس سروس بند ہونے سے تقریباً 250 طلبہ کے اسکول آنے جانے کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے اور اس کے باعث ان کی تعلیم متاثر ہونے کی شکایت سامنے آئی ہے۔نیریل علاقے کے طلبہ کو اسکول جانے میں پیش آنے والی مشکلات دور کرنے کے لیے کرجت پریس ایسوسی ایشن، کسان کرانتی تنظیم اور ریپبلکن پارٹی آف انڈیا اٹھاولے گروپ کی جانب سے محکمہ نقل و حمل سے درخواست کی گئی تھی۔ اس کے بعد 3 اگست سے نیریل وکاس کے راستے کَشَیلے کے لیے بس سروس شروع کی گئی تھی۔ سروس شروع ہونے کے بعد سیکڑوں طلبہ نے بس کے سفری پاس بھی حاصل کیے تھے۔اس بس سروس کا بنیادی مقصد طلبہ کے اسکول جانے کے لیے ہونے والی پیدل مسافت کو کم کرنا تھا۔ ابتدا میں عام مسافروں کے لیے بھی اضافی بس چکر شروع کیے گئے تھے، تاہم کچھ دن بعد مسافروں کے لیے چلنے والے چکر بند کرکے صرف طلبہ کے لیے بس سروس جاری رکھی گئی۔ اب طلبہ کے لیے یہ سروس بھی بند کردی گئی ہے، جس کے باعث ان کے سامنے ایک بار پھر آمدورفت کا سنگین مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔خاص طور پر ان طلبہ کو زیادہ دشواری ہورہی ہے جو 5 کلومیٹر یا اس سے زیادہ فاصلے سے اسکول آتے ہیں۔ طلبہ بس کا انتظار کرنے کے باوجود جب سروس دستیاب نہیں ہوتی تو بعض طلبہ واپس گھر لوٹنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث ان کی تعلیم متاثر ہونے کی شکایت کی جارہی ہے۔ دریں اثنا بعض رکشا ڈرائیوروں کی جانب سے طلبہ کو اسکول لے جانے کے لیے ایکو رکشا میں سوار کرنے سے انکار کیے جانے کی شکایات بھی طلبہ نے کی ہیں۔ اس وجہ سے متبادل آمدورفت کا انتظام بھی طلبہ کے لیے کافی ثابت نہیں ہورہا ہے۔طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کے تعلیمی نقصان کو روکنے کے لیے محکمہ نقل و حمل کو فوری طور پر اس معاملے میں توجہ دینی چاہیے اور نیریل کَشَیلے بس سروس کو دوبارہ بحال کرکے اسے باقاعدگی سے جاری رکھنا چاہیے۔ والدین نے بھی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ طلبہ کو درپیش مشکلات کا فوری نوٹس لے کر اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے