این ایچ ایم ملازمین کی ہڑتال چوتھے روز بھی جاری رہی۔
جموں, 12 ستمبر (ہ س)۔ نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) ملازمین کی ہڑتال کے چوتھے روز ڈوڈہ میں پُرامن احتجاجی مظاہرے جاری رہے۔ سی ایم او دفتر ڈوڈہ اور ضلع کے مختلف بلاک ہیڈکوارٹروں میں ملازمین نے اپنے دیرینہ مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔ احتجاج
Protest


جموں, 12 ستمبر (ہ س)۔

نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) ملازمین کی ہڑتال کے چوتھے روز ڈوڈہ میں پُرامن احتجاجی مظاہرے جاری رہے۔ سی ایم او دفتر ڈوڈہ اور ضلع کے مختلف بلاک ہیڈکوارٹروں میں ملازمین نے اپنے دیرینہ مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔

احتجاج کی قیادت جے کے این ایچ ایم ای اے ڈوڈہ کے صدر ڈاکٹر ناصر مسعود اندرابی نے کی۔ مظاہرے میں ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل عملے، انتظامی عملے اور این ایچ ایم کی مختلف اسکیموں سے وابستہ ملازمین نے شرکت کی۔

اس موقع پر ڈوڈہ ڈیولپمنٹ فرنٹ کے صدر اشتیاق احمد دیو،چیمبر آف کامرس کے صدر معراج بانڈے، لوپیڈ کے سینئر رہنما غلام حسن پامپوری، نیاز احمد راہی اور کانگریس کے نوجوان رہنما مدثر بانڈے بھی احتجاج میں شریک ہوئے۔ انہوں نے این ایچ ایم ملازمین کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے ان کے مسائل کا فوری حل تلاش کرنے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے جامع ملازمت پالیسی، ملازمت کے تحفظ، سبکدوشی مراعات، سماجی تحفظ، ای پی ایف کوریج اور دیگر مطالبات کو فوری طور پر حل کرنے کی اپیل کی۔

رہنماؤں نے کہا کہ این ایچ ایم ملازمین گزشتہ کئی برسوں سے صحت کے شعبے میں خدمات انجام دے رہے ہیں، خصوصاً دیہی اور دور دراز علاقوں میں ان کا اہم کردار ہے، اس کے باوجود ان کے مستقبل کو لے کر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

ادھر این ایچ ایم ملازمین کی مسلسل ہڑتال کے باعث جموں و کشمیر میں صحت کی خدمات بری طرح متاثر ہوئی ہیں، جبکہ دیہی اور دور دراز علاقوں میں اس کا اثر زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے حکومت سے اپیل کی کہ ملازمین کے مطالبات پر فوری مذاکرات کرکے مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے تاکہ صحت کی معمول کی خدمات بحال ہوسکیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande