
جموں، 12 ستمبر(ہ س)۔
جموں و کشمیر حکومت نے کئی ماہ کی مشاورت کے بعد سرکلر اکانومی پالیسی کو منظوری دے دی ہے۔ پالیسی کے تحت آئندہ پانچ برسوں کے دوران تقریباً 15 ہزار گرین روزگار پیدا یا باقاعدہ کرنے کے ساتھ 1000 سے 1500 سرکلر مائیکرو انٹرپرائزز اور 40 سے 60 اسٹارٹ اَپس و ایم ایس ایم ایز کو فروغ دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
پالیسی میں کچرے کو وسائل میں تبدیل کرنے، کچرے کی علیحدگی، بازیافت، ری سائیکلنگ، دوبارہ استعمال اور کچرے سے توانائی پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ سائنسی طریقوں سے کچرے کے انتظام سے آبی، فضائی اور زمینی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔
پالیسی کے مطابق تیزی سے بڑھتی شہری آبادی، سیاحت، مذہبی یاترا، باغبانی اور تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث کچرے کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر موجودہ نظام کو مزید منظم بنانے کی ضرورت ہے۔
پالیسی پر عمل درآمد مرحلہ وار کیا جائے گا، جس میں بنیادی جائزہ، آزمائشی منصوبے اور ڈیجیٹل نگرانی شامل ہوگی۔ پیش رفت کی نگرانی باقاعدہ جائزوں اور کارکردگی کے اشاریوں کے ذریعے کی جائے گی۔
حکومت نے ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ محکمہ کو پالیسی کو نافذ کرنے کے لیے ضروری حکومتی احکامات، رہنما اصول اور معیاری طریقۂ کار جاری کرنے کا اختیار دیا ہے۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر سرکلر اکانومی مشن، بین محکمانہ اسٹیئرنگ کمیٹی، سرکلر اکانومی سیل اور ضلعی سطح پر سرکلر اکانومی سیلز قائم کیے جائیں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد اصغر