قرآن کی روشنی میں ایمان و ہدایت کا پیغام، جماعت اسلامی ہند ذاکر نگر یونٹ کے ہفتہ وار پروگرام میں درسِ قرآن و حدیث
نئی دہلی،12ستمبر(ہ س)۔ جماعت اسلامی ہند ذاکر نگر یونٹ کے زیرِ اہتمام ہفتہ وار پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں درسِ قرآن، درسِ حدیث اور حالاتِ حاضرہ کے موضوع پر خطاب ہوا۔ پروگرام میں امیرِ مقامی جناب مشرف علی صاحب سمیت متعدد افراد نے شرکت کی۔
قرآن کی روشنی میں ایمان و ہدایت کا پیغام، جماعت اسلامی ہند ذاکر نگر یونٹ کے ہفتہ وار پروگرام میں درسِ قرآن و حدیث اور ولولہ انگیز خطاب


نئی دہلی،12ستمبر(ہ س)۔ جماعت اسلامی ہند ذاکر نگر یونٹ کے زیرِ اہتمام ہفتہ وار پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں درسِ قرآن، درسِ حدیث اور حالاتِ حاضرہ کے موضوع پر خطاب ہوا۔ پروگرام میں امیرِ مقامی جناب مشرف علی صاحب سمیت متعدد افراد نے شرکت کی۔

درسِ قرآن پیش کرتے ہوئے شکیل شمسی صاحب نے سورۃ تکویر کی آیات 15 تا 29 کا ترجمہ و مختصر تفسیر بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ستاروں، رات اور صبح کے مختلف مظاہر کی قسمیں کھا کر قرآن کی عظمت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے کی حقیقت واضح فرمائی ہے۔ مفہوم کے مطابق یہ قرآن کسی شیطان کا کلام نہیں بلکہ ایک معزز فرشتے، یعنی حضرت جبرائیلؑ کے ذریعے اللہ کے رسول ﷺ تک پہنچایا گیا کلام ہے، جو مضبوط اور امانت دار فرشتے کے ذریعے نازل ہوا۔ رسول اللہ ﷺ کسی مجنون نہیں بلکہ اللہ کے سچے رسول ہیں، اور قرآن تمام جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔ جو شخص سیدھی راہ اختیار کرنا چاہے وہ اس نصیحت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، تاہم انسان کا ارادہ بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔

درسِ حدیث محمد رمضان قاسمی صاحب نے پیش کیا۔ انہوں نے فتحِ مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے عفو و درگزر اور رحم و کرم کے غیر معمولی مظاہرے کو بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ آپ ﷺ نے برسوں کی مخالفت، ظلم اور اذیت کے باوجود اہلِ مکہ کے ساتھ عمومی طور پر امن اور امان کا معاملہ فرمایا۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق آپ ﷺ نے اہلِ مکہ کے لیے امن کے مختلف راستوں کا اعلان فرمایا، جن میں اپنے گھروں میں رہنے والوں، مسجدِ حرام میں داخل ہونے والوں اور ابو سفیان کے گھر میں داخل ہونے والوں کے لیے امان شامل تھی۔ اس واقعے سے عفو، درگزر، رحم اور فتح کے وقت انتقام کے بجائے اعلیٰ اخلاق کا سبق ملتا ہے۔پروگرام کے تیسرے حصے میں محمد شاداب صاحب نے حالاتِ حاضرہ کے موضوع پر ولولہ انگیز خطاب کیا۔ انہوں نے موجودہ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو اپنے دینی شعور کو بیدار رکھنے، حالات سے باخبر رہنے، قرآن و سنت کی ہدایات کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے اور دعوتِ دین کی ذمہ داری کو مؤثر انداز میں ادا کرنے کی طرف متوجہ کیا۔پروگرام کے اختتام پر شرکائ نے مختلف موضوعات سے متعلق سوالات کیے جن کا تسلی بخش جواب دیے گئے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande