ملک کی ترقی میں ہندوستانی مسلمانوں کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا : پروفیسر اختر الواسع
ملک کی ترقی میں ہندوستانی مسلمانوں کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا : پروفیسر اختر الواسع علی گڑھ، 12 ستمبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پالیٹیکنک کانفرنس ہال میں ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی، علی گڑھ کے زیر اہتمام ’’ہندوستان کی ترقی، سائنس،
کانفرنس


ملک کی ترقی میں ہندوستانی مسلمانوں کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا : پروفیسر اختر الواسع

علی گڑھ، 12 ستمبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پالیٹیکنک کانفرنس ہال میں ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی، علی گڑھ کے زیر اہتمام ’’ہندوستان کی ترقی، سائنس، ٹیکنالوجی اور تہذیب میں ہندوستانی مسلمانوں کا کردار‘‘ کے موضوع پر دو روزہ نیشنل ہسٹری کانفرنس کا آغاز ہوا جس میں ماہرین تعلیم، تاریخ داں، دانشوران اور مختلف شعبوں سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔

افتتاحی اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے جودھ پور یونیورسٹی کے سابق صدر پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی خدمات کی ایک زریں تاریخ ہے، جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ مغلوں سے قبل، مغلیہ دور، برطانوی عہد اور ملک کی آزادی کے بعد ہر دور میں مسلمانوں نے سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم، تہذیب اور دیگر شعبوں میں اہم کارنامے انجام دیے۔

پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ مسلمانوں نے ہندوستان کی اجتماعی زندگی اور تہذیب و تمدن کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کو مٹایا نہیں جاسکتا اور ملک کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کی خدمات کو محدود کرنے یا نظرانداز کرنے کی کوششیں حقیقت کو مسخ کرنے کے مترادف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلمان کربلا کے بعد بھی زندہ رہے، 1857 کے بعد بھی زندہ رہے، 1947 کے بعد بھی زندہ رہے اور 2002 کے بعد بھی زندہ رہے، ان شاء اللہ آئندہ بھی زندہ رہیں گے۔ انہوں نے مایوسی کا شکار افراد کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ اپنے علمی اور تعمیری کردار کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

پروفیسر اختر الواسع نے علوم و فنون کے ارتقا میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کردار کو بھی نمایاں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اے ایم یو کے فضلا نے ملک کی آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد مختلف شعبوں میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے علی گڑھ کے متعدد فیض یافتگان کا نام لے کر ان کی خدمات کا ذکر کیا۔

انہوں نے ہندوستان کی قدیم علمی روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاضی، فلکیات، طب، دھات کاری اور دیگر علوم میں ہندوستان نے قدیم زمانے ہی سے نمایاں ترقی کی تھی، جبکہ نالندہ جیسے علمی مراکز کا اثر دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ مسلمانوں نے یونانی اور عربی علوم کو ہندوستان تک پہنچانے اور انہیں فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے آزاد ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے فروغ کے لیے اہم اداروں کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، ایمس اور ساہتیہ اکادمی سمیت مختلف اداروں کے قیام میں مولانا آزاد کی خدمات کا ذکر کیا۔

پروفیسر اختر الواسع نے سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام، معروف ماہرِ پرندیات سلیم علی، ڈاکٹر قمر، شاہد جمیل، ڈاکٹر بشریٰ عتیق، ڈاکٹر قدسیہ تحسین، ڈاکٹر ضیاء الدین، اے آر قدوائی اور عظیم پریم جی سمیت متعدد مسلم شخصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان شخصیات نے سائنس، تعلیم، صنعت، تحقیق اور دیگر شعبوں میں ملک کا نام روشن کیا۔

مہمان خصوصی اور جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے اپنے خطاب میں سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں ہندوستانی مسلمانوں کی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی ترقی میں مسلمانوں کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ تعمیرات، آب پاشی، باغ بانی، انجینئرنگ، تعلیم، معیشت اور بین الاقوامی تعلقات سمیت مختلف شعبوں میں ہندوستانی مسلمانوں نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

انہوں نے سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اور پروفیسر ولی الرحمن صدیقی کی خدمات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ملک کی ترقی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے، جس میں مسلمانوں کا کردار بھی اہم رہا ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ تاریخ و ثقافت کے سابق چیئرمین پروفیسر سید عزیز الدین حسین نے کہا کہ برطانوی حکمرانوں نے ہندوستان کی تاریخ کو اپنے مخصوص نقطۂ نظر سے لکھنے کی کوشش کی، لیکن حقیقت پر مبنی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی لائبریریوں میں ہزاروں مخطوطات موجود ہیں جن میں قیمتی تاریخی مواد محفوظ ہے، تاہم ان میں سے بہت سے مخطوطات کے اب تک کیٹلاگ بھی تیار نہیں ہوسکے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے علمی اور سائنسی کردار پر مزید تحقیقی کام کیا جانا چاہیے اور مسلمان دانشوروں، سائنس دانوں اور ماہرین کی خدمات پر تحقیقی مضامین اور کتابیں تحریر کی جانی چاہئیں۔

ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلی، سابق پروفیسر شعبۂ تاریخ اے ایم یو نے بھی اظہار خیال کیا اور ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کے کردار اور مختلف ادوار میں ان کی خدمات کو اجاگر کیا۔

افتتاحی اجلاس کے آغاز میں انجینئر نسیم احمد خاں، کنوینر کانفرنس نے پروگرام کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی کی علمی سرگرمیوں کا تعارف کرایا۔ انہوں نے بتایا کہ ادارہ عصری اہمیت کے حامل موضوعات پر سیمینار، ورکشاپس اور کانفرنسیں منعقد کرتا ہے اور موجودہ کانفرنس بھی ایک اہم اور عصری موضوع پر منعقد کی جارہی ہے۔

صدرِ ادارہ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کے کردار کو ختم یا محدود کرنے کی کوشش حقیقت کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ مسلمانوں نے ہندوستان کی اجتماعی زندگی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

پروگرام کے کنوینر مولانا اشہد جمال ندوی تھے۔

افتتاحی اجلاس کے بعد پالی ٹیکنک آڈیٹوریم میں پہلے اکیڈمک سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف موضوعات پر تحقیقی مقالے پیش کیے گئے۔ سیشن میں پروفیسر کنور یوسف امین، پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی، ڈاکٹر شاداب موسیٰ، ڈاکٹر وارث مظہری، ڈاکٹر اسعد فیصل فاروقی، پروفیسر عبد العظیم اصلاحی، ڈاکٹر محمد خالد حسن اور پروفیسر احمد طارق جمیل نے اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے۔

کانفرنس میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کی علمی، سائنسی، تعلیمی، صنعتی اور تہذیبی خدمات کو نئی نسل تک پہنچانے کی ضرورت ہے، تاکہ نوجوان ہندوستان کی تاریخ میں اپنے اسلاف کے کردار سے واقف ہوں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکیں۔

منتظمین کے مطابق کانفرنس کا مقصد ہندوستان کی ترقی میں مسلمانوں کے کردار کے مختلف پہلوؤں کا تحقیقی اور تاریخی جائزہ پیش کرنا اور اس حوالے سے موجود علمی مواد کو سامنے لانا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande